پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور جامعات میں زیرِتعلیم افغان شہریوں سے متعلق اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں داخلہ، پلیسمنٹ، ٹرانسفر، مائیگریشن یا کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

 

پی ایم ڈی سی نے پاکستان میں پہلے سے میڈیکل یا ڈینٹل پروگرامز میں زیرِتعلیم افغان شہریوں کو موجودہ پالیسی کے مطابق افغانستان واپس بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ تعلیمی اداروں کو ان کی واپسی کے لیے ضروری انتظامی کارروائیاں مکمل کرنے، مطلوبہ این او سیز جاری کرنے اور روانگی میں سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: فوت شدہ یا معذور سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے ملازمت کے کوٹے کی پابندی ختم

 

پی ایم ڈی سی کے ہیڈ آف کونسل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری مراسلے میں تمام جامعات اور ان سے منسلک سرکاری و نجی میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو 31 جولائی 2026 کو جاری سابقہ مراسلے میں دی گئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

کونسل نے واضح کیا ہے کہ مزید احکامات تک موجودہ تعلیمی سیشن میں کسی افغان شہری کو میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم میں داخلہ، پلیسمنٹ، ٹرانسفر، مائیگریشن یا کسی اور نوعیت کی سہولت فراہم نہیں کی جاسکتی۔

 

مراسلے کے مطابق جن اداروں نے تاحال اس حوالے سے مطلوبہ کمپلائنس رپورٹ جمع نہیں کرائی، انہیں تین روز کے اندر افغان طلبہ کی مکمل تفصیلات کے ساتھ رپورٹ پی ایم ڈی سی کو ارسال کرنا ہوگی۔

 

پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات پر عملدرآمد میں ناکامی، تاخیر، معلومات چھپانے یا کسی افغان شہری کو غیرمجاز داخلہ یا سہولت فراہم کرنے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی کی جاسکتی ہے۔

 

پی ایم ڈی سی کی ہدایات کی روشنی میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور نے بھی اپنے ہاں زیرِتعلیم افغان طلبہ کے حوالے سے کارروائی شروع کردی ہے۔

 

یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری مراسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ افغان طلبہ سے متعلق تمام ضروری کارروائیاں اسسٹنٹ رجسٹرار ایم بی بی ایس کے دفتر کے ذریعے 24 گھنٹے کے اندر مکمل کی جائیں۔

 

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے جاری فہرست میں مجموعی طور پر 22 افغان شہریوں کے نام شامل ہیں جو ایم بی بی ایس پروگرام سے وابستہ ہیں۔

 

فہرست کے مطابق ایک طالب علم فرسٹ ایئر، 6 سیکنڈ ایئر، 4 تھرڈ ایئر، ایک فورتھ ایئر اور 8 فائنل ایئر ایم بی بی ایس میں زیرِتعلیم ہیں، جبکہ 2 افراد کو حال ہی میں گریجویشن مکمل کرنے والوں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

 

اس طرح کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں شامل افغان طلبہ میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو اپنی طبی تعلیم کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔