ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی نے نجی کالجز کے جائزے اور فزیکل انسپکشن کے دوران ان کے تعلیمی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں مختلف خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔ فزیکل انسپکشن کے دوران گومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کے داخلوں، رجسٹریشن، حاضری اور امتحانات کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

 

ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی نے گومل یونیورسٹی اور نجی کالجز کے معاملات کی تحقیقات کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو درخواست بھیج دی ہے، جس کے بعد محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے معاملہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے اٹھاتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی کو خط ارسال کردیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش کو 327 دن مکمل، تجارت کو کتنا نقصان ہوا؟

 

چیئرمین ایچ ای سی کو ارسال کیے گئے خط میں گومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کی یونیورسٹی کے ساتھ وابستگی اور ان کے علاقائی دائرۂ اختیار کی مکمل جانچ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

 

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے گومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کی ڈگریوں، داخلوں اور امتحانات کی مکمل تصدیق کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ نجی کالجز اور پروگرامز میں صورتحال واضح ہونے تک نئے داخلوں پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔

 

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے مزید سفارش کی ہے کہ مشکوک یا نامکمل تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے گریجویٹس کی اہلیت جانچنے کے لیے تصدیقی ٹیسٹ لیا جائے۔

 

دوسری جانب صوبائی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے نظام میں شفافیت اور تعلیمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے تمام نجی ملحقہ کالجز کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

 

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا آفریدی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔