جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حالیہ قانون سازی آئین سے متصادم ہے اور فرد واحد کی خاطر فیصلے قبول نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کے انداز اور رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

 

پشاور میں جے یو آئی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی رٹ ختم ہو رہی ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی بگڑ گئی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ قانون سازی کے ذریعے وزیراعظم کے اختیارات میں تبدیلی کی گئی۔

 

یہ بھی پڑھیے: قبائلی اضلاع کے مفت کے صحافی

 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے جوائنٹ اپوزیشن کی بات کی، تاہم آدھے گھنٹے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے قانون منظور ہوگیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبوں کو توڑنے یا نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کسی صورت درست نہیں، ملک میں اس حوالے سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے ساتھ مخلص ہونا اور معاشرے میں عدل قائم کرنا ضروری ہے، ظلم کے ذریعے حکمرانی برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون منظور نہیں کیا جا سکتا۔