پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے درمیان بڑھتی قربتوں کے باعث ممکنہ انتخابی اتحاد کے حوالے سے صوبائی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی۔

 

پہلے مرحلے میں دونوں جماعتوں نے ایوان کے اندر مشترکہ اپوزیشن کے طور پر ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت قانون سازی کے معاملات پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں روزانہ کتنی گندم فلور ملز کو فراہم کی جا رہی ہے؟

 

وزیر اطلاعات شفیع جان نے نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اور جمعیت علماء اسلام کافی قریب آچکی ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد کے خدوخال جلد طے کر لیے جائیں گے۔ آئندہ عام انتخابات میں انتخابی اتحاد سے متعلق سوال پر بھی انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔

 

 

تاہم جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان نے شفیع جان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اتحاد کا مرحلہ ابھی آیا ہی نہیں، فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

 

عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ فی الحال صرف ایوان کے اندر اتحاد قائم ہوا ہے، جس کا اعتراف مولانا فضل الرحمان بھی کر چکے ہیں۔ انتخابات میں ابھی وقت ہے، جب انتخابی مرحلہ آئے گا تو اس وقت انتخابی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، فی الحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

 

ماضی میں پی ٹی آئی اور جمعیت علماء اسلام ایک دوسرے کی شدید سیاسی مخالف رہی ہیں، اس لیے دونوں جماعتوں کا ایوان کے اندر مشترکہ اپوزیشن کے طور پر ساتھ چلنا صوبے کی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔