زالان خان آفریدی
خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں لڑکی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے الزام میں 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی والدہ سومیہ بی بی، بیوہ عجیب اللہ، ساکن سلطان خیل نے تھانہ لنڈی کوتل میں تحریری درخواست جمع کرائی، جس کی بنیاد پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 311 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ملازمین کے خلاف بڑا ایکشن
درخواست کے مطابق چند روز قبل سومیہ بی بی کو اس کے دیوروں نے گھر سے نکال دیا تھا جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس سے دور رکھا گیا تھا۔ 23 اگست کی رات تقریباً ایک بجے اسے اطلاع ملی کہ اس کی بڑی بیٹی مریم نے زہر کھا لیا ہے اور جاں بحق ہوگئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اطلاع ملنے پر جب وہ گھر پہنچی تو مریم کی لاش برآمدے میں پڑی تھی۔ لاش کا جائزہ لینے پر جسم پر تشدد کے متعدد نشانات موجود تھے، جس پر اسے شبہ ہوا کہ مریم کو مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کیا گیا۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مریم پر بدکاری کا الزام لگا کر شہوت خان، نادر خان، سفیر اللہ اور رجید اللہ ولد شہوت خان نے مبینہ طور پر اسے غیرت کے نام پر قتل کیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی تدفین ہوچکی ہے، اس لیے قبر کشائی اور دیگر قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ مقتولہ کے قتل اور اسے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے الزامات اس کی والدہ کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی اور مقدمے کے حقائق پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوں گے۔
