پشاور کے علاقے چمکنی میں شادی سے انکار کے تنازع پر لڑکے پر مبینہ تیزاب پھینکنے کے کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا۔ مقدمے میں نامزد خاتون نے لڑکے پر تیزاب پھینکنے کے الزام سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے دوران وہ خود بھی تیزاب سے جھلس کر زخمی ہوئی۔

 

 پولیس نے ابتدائی طور پر لڑکے کے بیان پر مقدمہ درج کرلیا ہے، تاہم خاتون کے بیان اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: طورخم بارڈر پر افغان مسافروں کی گاڑیوں کی کلیئرنس میں تاخیر، سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں

 

پولیس کے مطابق دونوں زخمیوں کو علاج کے لیے برن سنٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے اصل حقائق کیمرے کی ریکارڈنگ، دونوں زخمیوں کے بیانات اور موبائل ڈیٹا سمیت دیگر شواہد کی مدد سے سامنے آئیں گے۔

 

تھانہ چمکنی پولیس کو 26 سالہ صدیق اللہ ولد عبداللہ، ساکن عبدالروف ٹاؤن، نے رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کے مسماۃ عتیقہ، ساکن گلبہار نمبر 4، کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ اس کے مطابق خاتون اسے شادی کے لیے بلیک میل کرنے کے ساتھ 20 لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کر رہی تھی۔

 

صدیق اللہ کے مطابق شادی سے انکار پر خاتون اس کے گھر آئی اور جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو خاتون نے مبینہ طور پر اس پر تیزاب پھینک دیا، جس سے اس کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔ اس نے خاتون پر فائرنگ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: شادی سے انکار پر لڑکی نے لڑکے پر تیزاب پھینک کر فائرنگ کی، مقدمہ درج

 

پولیس نے صدیق اللہ کے بیان پر خاتون کے خلاف اقدام قتل اور تیزاب پھینکنے کی دفعات 324 اور 336-بی کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

 

پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد خاتون شادی شدہ اور 2 بچوں کی ماں ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں کی دوستی ایک نجی اسکول میں بطور ٹیچر کام کرنے کے دوران ہوئی تھی۔

 

خاتون نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں تیزاب پھینکنے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شوہر سے ناراض ہوکر میکے میں رہ رہی تھی۔ اس کے مطابق صدیق اللہ نے اسے کہا تھا کہ وہ اس کی اور اس کے شوہر کی صلح کرا دے گا اور دونوں کو گھر بلایا تھا۔

 

خاتون کے مطابق جب وہ صدیق اللہ کے گھر پہنچی تو اس کا شوہر وہاں موجود نہیں تھا، جس کے بعد لڑائی جھگڑا ہوا اور اسی دوران تیزاب پھینکنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس نے فائرنگ سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فائرنگ وہاں موجود کسی اور شخص نے کی۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون سے بھی تفتیش کی جارہی ہے اور دونوں زخمیوں کے بیانات، سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کی اصل صورت حال واضح ہوگی۔