طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے افغان مسافروں کی گاڑیوں کی سست رفتاری سے کلیئرنس کے باعث سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہوگئی ہیں، جس کے نتیجے میں مسافروں کو کئی گھنٹوں سے انتظار اور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

مسافروں کے مطابق ان کی گاڑیوں میں گھروں کا ضروری سامان موجود ہے، تاہم کسٹمز اور چیکنگ کے عمل میں تاخیر کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور وہ کئی گھنٹوں سے کلیئرنس کے منتظر ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونا پھر مہنگا ہوگیا، آج کی نئی قیمت کیا ہے؟

 

مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے افغانستان واپس جا رہے ہیں، جبکہ گھریلو سامان کی بروقت منتقلی نہ ہونے سے ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مسافروں کے مطابق افغانستان پہنچنے والے کئی خاندان ضروری سامان نہ پہنچنے کے باعث کھلے آسمان تلے یا زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔

 

واپس جانے والے افغان مسافروں نے این ایل سی اور کسٹمز حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلیئرنس اور چیکنگ کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر مسافروں کو غیر ضروری انتظار اور مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

 

مسافروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ طورخم بارڈر پر گاڑیوں کی کلیئرنس کے عمل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کلیئرنس تیز کی جائے تاکہ گھروں کا ضروری سامان بروقت افغانستان پہنچایا جا سکے اور مسافروں کی واپسی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔