مردان میں خواجہ گنج بازار کے معروف تاجر حاجی فرمان علی کی بیٹیوں انیلہ فرمان، مہرین فرمان اور عائشہ فرمان نے اپنے رشتہ داروں پر کروڑوں روپے مالیت کی وراثتی جائیداد پر مبینہ قبضے، جعلسازی اور غیر قانونی انتقال و فروخت کے الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مردان پریس کلب میں اپنے والد حاجی فرمان علی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواتین نے کہا کہ ان کے والد کی بیماری اور علالت کے دوران بعض رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندانی اور وراثتی جائیداد سے متعلق ایسے اقدامات کیے جن سے انہیں ان کے قانونی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: عازمین حج کے لیے بڑی سہولت، درخواست اور ادائیگی کا عمل اب گھر بیٹھے ممکن
خواتین کے مطابق ان کے والد کی ملکیتی اور وراثتی جائیداد میں خواجہ گنج بازار سمیت مختلف مقامات پر موجود قیمتی اثاثے شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جائیداد کے مختلف حصوں کے حوالے سے مبینہ طور پر غیر قانونی انتقال، دستاویزات میں ردوبدل اور فروخت کے معاملات سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ خواتین نے بتایا کہ وراثتی جائیداد سے متعلق 10 مختلف اثاثوں کے بارے میں انہیں تحفظات ہیں اور ان کے مطابق بعض معاملات میں ان کے قانونی حقوق کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جائیداد کے تمام ریکارڈ، انتقالات اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی مکمل چھان بین اور قانونی و فرانزک جانچ کرائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
انیلہ فرمان، مہرین فرمان اور عائشہ فرمان نے کہا کہ وہ اپنے والد کی جائیداد میں قانونی وارث ہیں اور کسی بھی غیر قانونی طریقے سے انہیں ان کے حق سے محروم کرنا قابل قبول نہیں۔
خواتین کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف ایک خاندان کی جائیداد کا نہیں بلکہ خواتین کے وراثتی حقوق کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے معاملے کا فوری نوٹس لے کر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کریں۔
متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر طارق ارائیں، کمشنر مردان، ڈی آئی جی مردان، ڈپٹی کمشنر مردان اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور مبینہ غیر قانونی انتقالات و دستاویزات کی مکمل چھان بین کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خواتین نے مزید کہا کہ وہ اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے متعلقہ عدالتوں سے بھی رجوع کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گی۔
