عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی آئینی حیثیت، جغرافیائی حدود یا انتظامی تشخص سے چھیڑ چھاڑ کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے، اے این پی ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کے ساتھ بھرپور مزاحمت کرے گی۔
اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں، خیبرپختونخوا اور پختونوں کی شناخت، تاریخی حیثیت اور قومی حقوق کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی ایک تحصیل تو کیا، ایک ویلج کونسل بھی کوئی ہم سے جدا نہیں کرسکتا۔ پختونخوا کسی فرد، حکومت یا ادارے کی ذاتی جاگیر نہیں کہ اسے اپنی مرضی سے تقسیم کیا جائے۔ یہ ہزاروں برس سے پختونوں کی سرزمین، تاریخ، تہذیب اور شناخت کی امین ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور ہائیکورٹ: 2 افغان صحافیوں کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا گیا
ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے جغرافیائی یا انتظامی تشخص کو غیر آئینی طریقے سے تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش پختونوں کے حقوق اور قومی وجود پر حملہ تصور ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کی حدود یا انتظامی حیثیت سے متعلق فیصلے محض سیاسی خواہشات، وقتی مفادات یا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کی مرضی سے نہیں کیے جا سکتے۔
جو عناصرخیبر پختونخوا کی تقسیم یا اس کی جغرافیائی و انتظامی حیثیت میں من مانی تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان مختلف قوموں، اکائیوں اور شناختوں کا وفاق ہے۔
مرکزی صدر نے کہا کہ کسی ایک قوم یا وفاقی اکائی کے تاریخی وجود اور شناخت کو کمزور کرنا دراصل وفاق کو کمزور کرنا ہے۔ ایسا کوئی بھی عمل پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا اور یہ خواہش رکھنے والے عناصر پاکستان توڑنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکیں گے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ حد بندیوں اور انتظامی اکائیوں کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کا تاریخی مؤقف اور تصور بھی سب پر واضح ہے۔ بہت جلد اے این پی کے تھنک ٹینک، مرکزی کابینہ، مرکزی ورکنگ کمیٹی اور مرکزی کونسل کے اجلاسوں میں اس تصور کو باقاعدہ بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام متعلقہ فورمز کی منظوری کے بعد اس تصور کو ایک منظم اور باقاعدہ سیاسی تحریک کی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی وحدت، شناخت اور آئینی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرے گی جو خیبرپختونخوا کے تاریخی تشخص، جغرافیائی وحدت اور آئینی حیثیت کو متاثر کرے۔
انہوں نے سرائیکی، سندھی، کشمیری، بلوچ، گلگتی اور پختون سمیت تمام قومیتوں سے اپنی قومی شناخت، تاریخی حقوق اور قومی وجود کے تحفظ کے لیے جمہوری، آئینی اور سیاسی جدوجہد مضبوط کرنے کی اپیل کی۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی کسی قوم کی شناخت مٹانے میں نہیں بلکہ تمام قوموں کے مساوی حقوق، خودمختاری، آئینی ضمانتوں اور باہمی احترام میں ہے۔
