کسی گھر میں مٹھائی کے ڈبے کھل رہے ہیں، کہیں مبارک باد کے پیغامات  موصول ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ گھروں میں غیر معمولی خاموشی ہے۔ خیبرپختونخوا کے تعلیمی بورڈز کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا موسم ہر سال یہی مناظر لے کر آتا ہے۔

 

 لیکن اس بار بھی نتائج کے ساتھ ایک ایسا سوال ابھر کر سامنے آیا ہے جس کا تعلق صرف تعلیم سے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے، خاندانوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے بھی ہے۔

 

پشاور میں میٹرک کے نتائج کے بعد ایک طالب علم، عزیر، کی موت ( خودکشی) نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ہمارے نوجوان صرف امتحانات کا دباؤ برداشت کر رہے ہیں یا وہ ان توقعات کے بوجھ تلے بھی دب رہے ہیں جو اکثر غیر محسوس انداز میں ان پر ڈال دی جاتی ہیں؟

 

 

یہ سوال صرف ایک خاندان یا ایک طالب علم کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کا آئینہ ہے، جہاں کامیابی کو اکثر صرف نمبروں سے ناپا جاتا ہے اور ناکامی کو زندگی کی آخری منزل سمجھ لیا جاتا ہے۔

 

مجھے آج بھی اپنے امتحانات کے دن  یاد ہیں، میرے والدین نے کبھی مجھ پر نمبر لانے کی شرط نہیں رکھی،  مجھے ہمیشہ ہر چیز میں سپورٹ کیا ہے لیکن ان کی خاموش امیدیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ہر امتحان میں بہترین کارکردگی دکھاؤں، وہ ہمیشہ مجھ سے توقعات رکھتے تھے اور باقاعدہ فخر سے ہر جگہ ہر فرد کو میری تعلیمی نتائج میں کامیابی کی بارے میں بتاتے تھے جس کی وجہ سے رشتہ داروں کو بھی مجھ سے توقعات تھے یونیورسٹی میں مسلسل اچھے نتائج آنے لگے تو یہ توقعات مزید بڑھ گئیں اور پھر صرف اچھے نمبروں کی نہیں بلکہ گولڈ میڈل کی امید بھی مجھ سے وابستہ ہو گئی۔

 

نتائج سے پہلے کی راتیں میرے لیے اکثر بے خوابی میں گزرتی تھیں۔ بھوک ختم ہو جاتی، دل بے چین رہتا اور ذہن میں بار بار یہی سوال گردش کرتا کہ اگر اس بار توقعات پوری نہ ہوئیں تو کیا ہوگا؟  آج جب دوسرے طلبہ کو اسی کیفیت سے گزرتے دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید بہت سے نوجوان اپنے اندر ایسے ہی خاموش دباؤ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر اس کا اظہار نہیں کر پاتے۔

 

یہ صرف ایک طالب علم کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ کلاس روم میں موجود اساتذہ بھی اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں۔

 

سوات کے علاقے چارباغ سے تعلق رکھنے والے سرکاری سکول کے استاد تاج احمد  کے مطابق، نتائج کے قریب آتے ہی بہت سے طلبہ کے رویے بدل جاتے ہیں۔

 

ان کے بقول، “کچھ بچے اچانک خاموش ہو جاتے ہیں، کچھ کی پڑھائی میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے، اسائنمنٹس مکمل نہیں کرتے، غیر حاضر رہنے لگتے ہیں، جبکہ کئی جسمانی طور پر بھی بیمار محسوس ہوتے ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اکثر بچے اپنے خوف اور پریشانی کے بارے میں کسی سے بات ہی نہیں کرتے۔”

 

 

وہ کہتے ہیں کہ اساتذہ کی ذمہ داری صرف نتائج تک نہیں بلکہ طلبہ کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ ایک امتحان ان کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ 

اگر کسی طالب علم کی کارکردگی یا رویے میں اچانک تبدیلی آئے تو ,والدین اور اساتذہ کے ذمہ داری ہے طلبہ کو حوصلہ دینا، ناکہ توقعات رکھ کر ان کو مزید پریشان کرنا۔

 

لیکن کیا یہ دباؤ صرف سکول یا امتحان تک محدود ہے؟ ماہرین نفسیات اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات ( سائیکالوجسٹ)  سارہ خان کی  مطابق، امتحانی نتائج بذاتِ خود کسی نوجوان کو شدید ذہنی بحران میں نہیں دھکیلتے بلکہ مختلف نفسیاتی اور سماجی عوامل ایک ساتھ مل کر یہ کیفیت پیدا کرتے ہیں۔

 

ان کے مطابق، بہت سے نوجوان اپنی شناخت اور خود اعتمادی کو مکمل طور پر نمبروں سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ جب اس کے ساتھ والدین کی بلند توقعات، رشتہ داروں سے موازنہ، سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیوں کا دباؤ، پسندیدہ کالجوں اور یونیورسٹی میں داخلی کی فکر، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی اور خود کو ناکام سمجھنے کا احساس شامل ہو جائے تو ذہنی دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

 

وہ بتاتی ہیں کہ ایسے حالات میں نوجوانوں میں بے خوابی، بھوک میں کمی، چڑچڑاپن، بار بار رونا، خود کو دوسروں سے الگ  کرنا، پڑھائی میں دلچسپی ختم ہونا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، مسلسل بے چینی اور یہ احساس کہ "میں کسی کام کا نہیں" جیسے آثار سامنے آ تے ہیں، یہ علامات محض وقتی پریشانی نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات فوری توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ والدین نتائج کے دن صرف یہ سوال نہ کریں کہ "کتنے نمبر آئے؟" بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ "تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟" کیونکہ اکثر بچوں کو نصیحت سے زیادہ ایک ایسے فرد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں بغیر تنقید کے سنے۔

 

 اگر کسی طالب علم کے مزاج میں غیر معمولی تبدیلی، مسلسل اداسی، شدید بے چینی یا سماجی تعلقات سے کنارہ کشی نظر آئے تو والدین کو چاہیے اسے نظر انداز کرنے کے بجائے انکا ساتھ دیں۔ یہ مسئلہ صرف خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی ڈھانچے سے بھی جڑا ہوا ہے۔

 

پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں محدود نشستیں، مسلسل بڑھتا ہوا میرٹ اور مخصوص شعبوں میں سخت مقابلہ نوجوانوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ چند نمبروں کی کمی شاید ان کے پورے مستقبل کا راستہ بدل دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانی نتائج بہت سے طلبہ کے لیے محض ایک رپورٹ کارڈ نہیں بلکہ اپنی شناخت اور مستقبل کا پیمانہ بن جاتے ہیں۔

 

نتائج کے موسم میں والدین اور اساتذہ دونوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ بچوں کی کوشش کو سراہنا، انہیں دوسروں سے موازنہ نہ کرنا، ناکامی کو سیکھنے کا ایک مرحلہ سمجھنے کی ترغیب دینا اور نتائج کے بعد بھی ان سے پہلے جیسا ہی اعتماد اور محبت کا اظہار کرنا ان کی ذہنی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر تا ہے۔

 

 سوال صرف یہ نہیں کہ اس سال کتنے طلبہ نے اے ون گریڈ حاصل کیا یا کتنے ناکام ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام ایسے نوجوان تیار کر رہا ہے جو کامیابی کے ساتھ ناکامی کا سامنا بھی حوصلے سے کر سکیں؟

 

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم رپورٹ کارڈ سے پہلے اپنے بچوں کی کیفیت کو پڑھنا سیکھیں۔ کیونکہ نمبر مستقبل کا ایک دروازہ ضرور کھول سکتے ہیں، لیکن کسی نوجوان کی زندگی، اس کا اعتماد اور اس کی ذہنی صحت ہر گریڈ، ہر میرٹ لسٹ اور ہر رپورٹ کارڈ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔