سابقہ قبائلی اضلاع میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے لیے 2016 سے جاری "لٹریسی فار آل اِن فاٹا" منصوبہ ایک بار پھر مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔
منصوبے سے وابستہ 269 مرد و خواتین اساتذہ گزشتہ تقریباً تین برس سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جبکہ 191 فعال کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سنٹرز میں زیر تعلیم 18 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
دوسری جانب محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ منصوبے کو کرنٹ سائیڈ پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، اور اگر تمام مراحل بروقت مکمل ہو گئے تو اگست 2026 کے وسط تک اساتذہ کو بقایا تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: جان کو خطرہ یا قانونی رکاوٹ؟ پشاور ہائیکورٹ نے سابق افغان جرنیلوں کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا
ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع کرم کی تحصیل پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والی ظہرا بی بی (فرضی نام) نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ برس سے ایک کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سنٹر میں بطور استانی خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں تقریباً 70 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق اس سنٹر سے تعلیم مکمل کرنے والی کئی طالبات اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہیں، تاہم گزشتہ تقریباً تین برس سے اساتذہ کی تنخواہیں بند ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ پاڑہ چنار شہر سے ایک دور افتادہ گاؤں میں واقع سنٹر تک ٹیکسی کے ذریعے جاتی ہیں اور آمدورفت کا کرایہ اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق وزیر اعلیٰ شکایات سیل میں متعدد مرتبہ درخواستیں بھی جمع کرائیں، مگر کوئی مؤثر جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بقایا تنخواہیں جاری کرے تاکہ اساتذہ کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ضلع باجوڑ کی تحصیل اتمان خیل میں خدمات انجام دینے والی حفصہ بیگم (فرضی نام) نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کی تنخواہیں گزشتہ 34 ماہ سے رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2016 میں اس منصوبے کا آغاز ہوا تو علاقے میں والدین اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے پر آمادہ نہیں تھے۔
اساتذہ نے خواتین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں، گھر گھر جا کر والدین کو بچیوں کی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
حفصہ بیگم کے مطابق آج انہی سنٹرز سے فارغ ہونے والی طالبات نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طالبہ سبیلہ نے فرسٹ ایئر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سائرہ نعمت جان دسویں جماعت میں نمایاں نمبروں کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے بقول اساتذہ نے انتہائی پسماندہ علاقوں میں محدود وسائل کے باوجود تعلیم کا چراغ روشن رکھا، مگر مسلسل تنخواہوں کی بندش نے سینکڑوں اساتذہ کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذرائع کے مطابق "لٹریسی فار آل اِن فاٹا" منصوبہ 2016 میں اس مقصد کے تحت شروع کیا گیا تھا کہ ایسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کی جائے جہاں سرکاری یا نجی تعلیمی ادارے موجود نہیں تھے۔
25ویں آئینی ترمیم سے قبل یہ منصوبہ فاٹا اے ڈی پی کے تحت چلایا جاتا تھا، جبکہ بعد ازاں اسے مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن (MEAF) کے ذریعے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کی نگرانی میں جاری رکھا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سابق قبائلی اضلاع اور سب ڈویژنز میں مجموعی طور پر 209 کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سنٹرز قائم کیے گئے، جن میں سے 191 اس وقت بھی فعال ہیں، جبکہ 18 مختلف وجوہات کی بنا پر بند ہو چکے ہیں۔ یہ سنٹرز خیبر، باجوڑ، مہمند، کرم، اورکزئی، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت حسن خیل، درہ آدم خیل، وزیر بنوں، بیٹنی لکی، جنڈولہ اور درازندہ جیسے علاقوں میں قائم ہیں۔
منصوبے کے تحت 269 اساتذہ اور سات لٹریسی سپروائزر خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اساتذہ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان سنٹرز میں 18 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، جن میں لڑکیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔
بیشتر سنٹرز مقامی کمیونٹی کی جانب سے مفت فراہم کیے گئے گھروں یا حجروں میں قائم ہیں، جس کے باعث حکومتی اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں محکمہ تعلیم کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 12 لاکھ سے زائد بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں۔ ایسے میں کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سنٹرز نسبتاً کم لاگت پر ان بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق جس طرح سیٹل اضلاع میں کمیونٹی سکولوں کو حکومتی اور ڈونر فنڈنگ حاصل ہے، اسی طرز پر قبائلی اضلاع کے اس کامیاب ماڈل کو بھی مستقل بنیادوں پر سرکاری نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے چیف پلاننگ آفیسر زین شاہ نے ٹی این این کو بتایا کہ حکومت "لٹریسی فار آل اِن فاٹا" منصوبے کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کے لیے اسے کرنٹ سائیڈ پر منتقل کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے باقاعدہ پروپوزل موصول نہ ہونے کے باعث منصوبہ کرنٹ سائیڈ میں شامل نہیں ہو سکا، تاہم اب ایم ڈی، ایم ای اے ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ پی سی ون محکمہ تعلیم کو موصول ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپڈیٹڈ پی سی ون پیر کے روز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیا جائے گا تاکہ اسے پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔ زین شاہ کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ منصوبے سے وابستہ تمام اساتذہ کی بقایا تنخواہیں ایک ساتھ جاری کی جائیں، اور اگر تمام انتظامی و مالی مراحل بروقت مکمل ہو گئے تو اگست 2026 کے وسط تک ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن مزید علاقوں میں منصوبے کی توسیع کے لیے جامع تجویز پیش کرتی ہے تو حکومت اس کے دائرہ کار میں اضافے پر بھی غور کرے گی۔ ان کے بقول حکومت نے تعلیم اور صحت کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے، اور مرجڈ اضلاع میں بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
قبائلی اضلاع میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ہزاروں ایسے بچوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا ہے جو برسوں تک تعلیم سے محروم رہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت منصوبے کو مستقل بنیادوں پر کرنٹ سائیڈ پر منتقل کرے، تمام بقایا تنخواہیں فوری ادا کرے اور دور افتادہ علاقوں میں مزید کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سنٹرز کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کے فروغ کا یہ سلسلہ متاثر نہ ہو۔
