پشاور ہائی کورٹ نے پیسکو، ٹیسکو سمیت بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر تمام رٹ درخواستیں خارج کرتے ہوئے حکومت کا فیصلہ برقرار رکھ دیا۔
جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومتی پالیسی کا حصہ ہیں، ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے والے پاکستان میں پریکٹس نہیں کر سکیں گے: پی ایم ڈی سی
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ واپڈا سروس رولز ابتدا میں قانونی حیثیت رکھتے تھے، تاہم ڈسکوز پر ان کے اطلاق کے بعد ان کی حیثیت انتظامی نوعیت کی ہو گئی، اس لیے حکومت انہیں تبدیل یا ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وہ ڈسکوز کے ملازمین ہیں اور مفت بجلی یونٹس سمیت دیگر مراعات ان کی ملازمت کی شرائط اور بنیادی حق کا حصہ ہیں، لہٰذا حکومت انہیں ختم نہیں کر سکتی۔
عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کر دیں۔
واضح رہے کہ حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ نے دسمبر 2023 میں حکمِ امتناعی جاری کیا تھا، جو اس فیصلے کے بعد ختم ہو گیا۔
