امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ سپلائی میں خدشات کے باعث قیمتوں میں مزید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا میں خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں اس ہفتے گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عالمی معیار ڈیٹڈ برینٹ کی قیمت بھی جمعرات کو 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے اور جون کے آغاز کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں کا نیا سلسلہ کب سے شروع ہو رہا ہے؟ پی ڈی ایم اے نے پیشگوئی جاری کر دی
ماہرین کے مطابق ایران اور یوکرین سے متعلق تنازعات کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے خریدار فوری فراہمی کے لیے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب قازقستان نے بھی بتایا ہے کہ بحیرہ اسود میں خام تیل برآمد کرنے والے ایک اہم ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد بند کرنا پڑا، جس کے باعث ملک کی تیل کی پیداوار کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
