صبح سویرے گھر سے نکلنے والا نوجوان ہاتھ میں تعلیمی اسناد اور ذہن میں ایک ہی امید لیے کسی سرکاری دفتر، امتحانی مرکز یا نجی ادارے کا رخ کرتا ہے۔ کئی گھنٹوں کے سفر، انتظار، امتحان اور انٹرویو کے بعد جب نتیجہ آتا ہے تو اکثر چند نشستوں کے لیے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں امیدواروں میں سے صرف چند نام منتخب ہوتے ہیں۔ باقی امیدوار دوبارہ کسی اگلے اشتہار، اگلے امتحان اور اگلی امید کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔

 

 

پاکستان میں روزگار کا یہ مقابلہ محض نوکری حاصل کرنے کی دوڑ نہیں رہا بلکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقبل بنانے کی ایک طویل آزمائش بن چکا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے محنت کشوں کے سروے 2024-25 کے مطابق بے روزگاری کی شرح 10.9 فیصد، جبکہ ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی رکھنے والوں میں یہ شرح 11.7 فیصد ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے ڈگری کالجز میں حاضری کا نیا نظام، والدین گھر بیٹھے بچوں کو مانیٹر کریں گے

 

 خواتین میں یہ مسئلہ مزید نمایاں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی رکھنے والی خواتین میں بے روزگاری کی شرح 24 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

 

 

مسئلہ صرف بے روزگاری کی شرح تک محدود نہیں۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں داخل طلبہ کی تعداد 2012-13 میں 11 لاکھ 38 ہزار 729 تھی، جو 2020-21 میں بڑھ کر 22 لاکھ 72 ہزار 166 ہو گئی۔ یعنی تعلیمی مواقع اور ڈگریاں بڑھیں، مگر تعلیم مکمل کرنے والے ہر نوجوان کے لیے اسی رفتار سے روزگار کے مواقع  پیدا نہیں ہو سکے۔

 

 

یہی فرق اس وقت سب سے زیادہ محسوس ہوتا ہے جب ایک ہی آسامی کے لیے درخواستوں کا انبار لگ جاتا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ ثنا ( فرضی نام )  نے اسلامیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ مختلف سرکاری آسامیوں کے لیے کئی مرتبہ امتحانات دے چکی ہیں، لیکن اب عمر کی حد ان کے لیے خود ایک رکاوٹ بن چکی ہے۔

 

ثنا بتاتی ہیں کہ انہوں نے مختلف عہدوں کے لیے درخواستیں دیں، لیکن اب بہت سی ایسی آسامیوں کے لیے بھی اہل نہیں رہیں جہاں عمر کی حد 30 سال رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات صرف تین یا چار نشستوں کے لیے ہزاروں افراد درخواست دیتے ہیں۔ ایسے میں ہر امیدوار کے لیے کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

 

 

لیکن ثنا کے لیے مسئلہ صرف نشستوں کی کمی نہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی اداروں میں بھی ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر وہاں بھی انہیں بھرتی کے طریقہ کار پر سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ چار سے چھ نجی اداروں میں ملازمت کے لیے گئیں، لیکن بعض جگہ انہیں محسوس ہوا کہ ادارے پہلے ہی طے کر چکے تھے کہ کس امیدوار کو رکھنا ہے اور بعد میں بھرتی کا عمل مکمل کیا گیا۔

 

ثنا کہتی ہیں، ’’اگر کسی ادارے نے پہلے ہی کسی شخص کو منتخب کرنا ہے تو پھر اشتہار دے کر دوسرے امیدواروں کو درخواست دینے اور انٹرویو کے لیے بلانے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘

 

ان کے مطابق ایسے عمل سے امیدوار صرف وقت ہی نہیں بلکہ سفر، درخواست اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔ برسوں کی کوشش کے باوجود سرکاری اور نجی شعبے میں ملازمت نہ ملنے کے بعد وہ اب نجی تدریس سے وابستہ ہیں۔

 

 

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ نوجوانوں کی شکایت کو ملک کے ہر ادارے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں بہت سے ایسے سرکاری اور نجی ادارے بھی موجود ہیں جہاں باقاعدہ امتحانات، اہلیت اور میرٹ کے ذریعے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔

 

 اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب محدود نشستوں کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے تو کامیاب امیدواروں اور باقی رہ جانے والوں کے درمیان فرق بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی خلا میں اقربا پروری، پسند و ناپسند اور میرٹ سے متعلق شکایات بھی جنم لیتی ہیں۔

 

 

ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ اسماء کے تجربے میں بھی ملازمت کی تلاش کی یہی تھکن دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ایک سرکاری ادارے میں عارضی لیکچرار کی آسامی کے لیے درخواست دی۔ ان کے مطابق وہ صبح 8 بجے گھر سے روانہ ہوئیں، تقریباً دو گھنٹے کا سفر کیا اور شام 5 بجے تک ادارے میں انٹرویو کے لیے بیٹھی رہیں۔پھر جب ان کی باری آئی تو انہیں بتایا گیا کہ ادارہ اپنے پرانے عملے کو دوبارہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

اسماء کہتی ہیں کہ اگر پہلے سے یہی فیصلہ تھا تو پھر اشتہار کیوں دیا گیا، امیدواروں کو درخواست دینے اور اتنی دور سے انٹرویو کے لیے بلانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ بتاتی ہیں کہ وہ شام 7 بجے گھر واپس پہنچیں۔ ایک پورا دن سفر اور انتظار میں گزر گیا، لیکن آخر میں ملازمت ان کے حصے میں نہیں آئی۔

 

ملازمت کی تلاش میں بعض امیدواروں کو ایسے معیار کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے خیال میں ان کی اصل قابلیت سے زیادہ اہم بنا دیا جاتا ہے۔ سوات کے کالام سے تعلق رکھنے والی صائمہ نے ایک سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دی اور ان کے مطابق وہ تمام مطلوبہ شرائط پر پوری اترتی تھیں، تاہم انٹرویو کے دوران انہیں صرف اس بنیاد پر مسترد کیا گیا کہ وہ روانی سے انگریزی نہیں بول سکتی ۔

 

 

صائمہ کا کہنا ہے کہ انگریزی ہماری قومی زبان نہیں، اگر کسی عہدے کے لیے انگریزی میں روانی لازمی شرط تھی تو اسے پہلے ہی واضح کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اس ملازمت کے حصول کی کوشش میں ان کے تقریباً 10 ہزار روپے خرچ ہوئے، مگر آخر میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔

 

ان تجربات کے برعکس محمد طارق خان کی کہانی بتاتی ہے کہ طویل انتظار کے بعد کامیابی ممکن ضرور ہے، مگر اس کے لیے کئی سال کی مسلسل جدوجہد درکار ہو سکتی ہے۔

 

سوات کے مینگورہ سے تعلق رکھنے والے محمد طارق خان کو 19 مارچ 2025 کو مطالعہ پاکستان کے مضمون میں گریڈ 17 کے موضوعاتی ماہر کے طور پر سرکاری ملازمت ملی۔ لیکن اس عہدے تک پہنچنے کے لیے انہیں تقریباً چھ سال تک مسلسل کوشش کرنا پڑی۔

 

 

طارق خان نے 2019 میں مطالعہ پاکستان میں گریجویشن مکمل کی۔ ان کے مطابق اس کے بعد انہوں نے مختلف سرکاری امتحانات دیے اور امتحانات میں شرکت کے لیے سوات سے پشاور تک سفر کرتے رہے۔ اس دوران انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے امتحانات بھی دیے جن کے اشتہارات 2023 میں جاری ہوئے، امتحانات 2024 میں ہوئے اور نتائج 2025 میں سامنے آئے۔ طارق خان کے مطابق ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے محنت اور امید نہیں چھوڑی۔وہ مزید کہتے ہیں، ’’آخرکار میں نے اپنی نجی ملازمتیں چھوڑ دیں اور صرف تیاری پر توجہ مرکوز کر دی۔ 2025 میں مجھے سرکاری ملازمت مل گئی۔‘‘

 

طارق خان کہتے ہیں کہ بے روزگاری کے دوران معاشرے کے رویے نے بھی انہیں متاثر کیا۔ ان کے مطابق نجی ملازمت میں انہیں وہ عزت نہیں ملتی تھی جس کی وہ توقع رکھتے تھے، لیکن سرکاری ملازمت ملنے کے بعد انہی لوگوں کا رویہ بدل گیا۔

 

 

وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سرکاری ملازمت کے امتحانات ضرور دیں، لیکن اپنی پوری عمر صرف ایک سرکاری آسامی کے انتظار میں نہ گزاریں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنی ڈگری سے متعلق نجی شعبے میں بھی کام کرنا چاہیے تاکہ عملی تجربہ حاصل ہو اور اپنے شعبے پر گرفت برقرار رہے۔

 

ان کے مطابق ہمارے ہاں اکثر نوجوان سرکاری ملازمت کا اشتہار آنے کے بعد تیاری شروع کرتے ہیں، حالانکہ امتحان کی تیاری بہت پہلے سے شروع ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی نوجوان کو اپنی تعلیم سے متعلق نجی ملازمت ملے تو اسے صرف اس لیے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمت کا انتظار کر رہا ہے۔

 

دوسری جانب سوات کے ثانوی اسکول کے استاد فضل حق کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک آسامی کے لیے ہزاروں درخواستیں آنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں میں اتنی تعداد میں نئی آسامیاں پیدا نہیں ہوتیں۔

 

 

فضل حق کہتے ہیں کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کرنے والے افراد کو بھی گریڈ 3 اور 4 کی ملازمتوں کے لیے درخواست دیتے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اپنی ڈگری سے کم درجے کی ملازمت قبول کرنے پر تیار ہیں تاکہ کم از کم آمدن کا کوئی ذریعہ موجود ہو۔

 

ان کے مطابق پاکستان میں بعض اداروں میں اقربا پروری اور پسند و ناپسند کی شکایات واقعی موجود ہیں، لیکن دوسری طرف کچھ ادارے میرٹ پر بھی کام کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ چند سو یا چند ہزار سرکاری آسامیوں کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، اس لیے حکومت کے لیے ہر تعلیم یافتہ نوجوان کو سرکاری ملازمت دینا ممکن نہیں۔

 

 

فضل حق کے خیال میں حکومت کو ان شعبوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جہاں حقیقی طور پر عملے کی کمی ہے۔ ان کے مطابق سوات سمیت خیبر پختونخوا کے ایسے اسکول موجود ہیں جہاں عملے کی کمی ہے اور بعض مضامین کے مستقل اساتذہ بھی دستیاب نہیں۔

 

 ان کے مطابق ضرورت کے مطابق عارضی اساتذہ رکھے جائیں تو ایک طرف نوجوانوں کو کام کا موقع مل سکتا ہے اور دوسری طرف اسکولوں میں تدریسی خلا بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

 

 

ملازمت کے محدود مواقع اور بڑھتی ہوئی مسابقت کا دباؤ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کی طرف بھی لے جا رہا ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق مئی 2025 تک 2 لاکھ 85 ہزار 370 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں ۔ یہ اعداد اس بات کی ایک جھلک بھی دیتے ہیں کہ بہتر روزگار کی تلاش اب صرف اپنے شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہی۔

 

لیکن ہر نوجوان کے لیے بیرون ملک جانا ممکن نہیں، اور ہر تعلیم یافتہ فرد کے لیے سرکاری ملازمت بھی دستیاب نہیں۔ اسی مقام پر روزگار کے متبادل راستوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

 

ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، مصنف، اینکر ، کالم نگار، تربیت کار اور پیشہ ورانہ مشیر ( کیرئیر کونسلر ) شمس مہمند کے مطابق مہنگائی اور بے روزگاری نے سرکاری ملازمت کو نوجوانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ ان کے مطابق بعض نوجوان ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی گریڈ 3 اور 4 کی آسامیوں کے لیے درخواست دیتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ عمر کی حد گزر گئی تو شاید کوئی موقع باقی نہ رہے۔

 

 

ان کے مطابق ایک آسامی کے لیے ہزاروں امیدوار سامنے آتے ہیں، پھر چند افراد منتخب ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں امیدوار ناکام رہ جاتے ہیں۔ بار بار کی ناکامی بعض نوجوانوں کو شدید مایوسی کا شکار کر دیتی ہے۔

 

شمس مہمند کہتے ہیں کہ ان کے پاس مشاورت کے لیے آنے والے نوجوانوں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ انہیں میرٹ پر مواقع نہیں مل رہے اور ان کی صلاحیتوں کی قدر نہیں ہے۔ تاہم ان کا مشورہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی پوری توانائی صرف سرکاری ملازمت کے انتظار میں صرف نہ کریں۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمت اپنی جگہ اچھی ہے، لیکن نجی شعبے میں کام، مختلف ہنر سیکھنا اور آزادانہ طور پر کام کرنا بھی روزگار کے راستے ہیں۔ نوجوان اگر ایک سے زیادہ مہارتیں حاصل کریں تو ان کے لیے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔

 

ان کے مطابق خاص طور پر میٹرک اور بارہویں جماعت کے بعد نوجوانوں کو صرف ڈگری کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ فنی اور پیشہ ورانہ ہنر بھی سیکھنے چاہئیں۔ انہیں نجی ملازمتوں کی طرف جانا چاہیے اور آزادانہ کام بھی کرنا چاہیے۔ کورونا کے بعد گھر سے کام کرنے کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے ذریعے گھر بیٹھ کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو بدلتی ہوئی روزگار کی دنیا کے مطابق اپنی مہارتیں بہتر بنانی چاہئیں۔

 

 

شمس مہمند حکومت سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ نوجوانوں کے لیے صرف قرضہ اسکیموں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے پروگرام شروع کیے جائیں جن میں نوجوانوں کو عملی ہنر سکھایا جائے۔ ان کے مطابق قرض واپس کرنا ہر نوجوان کے لیے آسان نہیں ہوتا، جبکہ ایک قابلِ استعمال ہنر ایسا اثاثہ ہے جس سے نوجوان طویل عرصے تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 

ان کے نزدیک حکومت کو ان شعبوں کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے جہاں ملک کو واقعی افرادی قوت کی ضرورت ہے اور پھر نوجوانوں کو انہی شعبوں کے مطابق تربیت دینی چاہیے۔ انہیں کاروبار اور خود روزگاری کی طرف بھی لایا جائے۔ اس طرح تعلیم، ہنر اور روزگار کے درمیان موجود فاصلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

 

 

ماہرین کے مطابق پاکستان میں روزگار کا بحران صرف اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ نوجوان کام نہیں کرنا چاہتے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ سرکاری شعبہ ان سب کو جذب نہیں کر سکتا۔

 

 دوسری طرف نجی شعبے میں مواقع موجود ہونے کے باوجود بھرتی کے طریقہ کار، کم اجرت، تجربے کی شرط اور بعض اداروں میں پسند و ناپسند سے متعلق شکایات نوجوانوں کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔

 

 

اسی لیے حل بھی صرف نئی سرکاری آسامیاں پیدا کرنا نہیں۔ حکومت کو نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے، چھوٹے کاروبار اور ہنر مند نوجوانوں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے، فنی تعلیم کو روزگار کی ضرورت سے جوڑنے، سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو بروقت پُر کرنے اور بھرتی کے عمل کو مزید شفاف بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔

 

ایک اور اہم ضرورت یہ ہے کہ جس آسامی کے لیے مخصوص تعلیم، تجربہ یا زبان کی مہارت ضروری ہو، وہ شرائط اشتہار میں واضح طور پر درج کی جائیں۔ امیدوار کو کئی مراحل سے گزارنے کے بعد ایسی شرط کی بنیاد پر مسترد کرنا جس کا پہلے سے واضح ذکر نہ ہو، اس کے وقت اور وسائل دونوں کو ضائع کرتا ہے۔

 

 

اسی طرح اگر کسی ادارے نے پہلے ہی کسی ملازم کو دوبارہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو بھرتی کا اشتہار جاری کرنے سے پہلے اس فیصلے کو واضح کرنا امیدواروں کے ساتھ زیادہ منصفانہ رویہ ہوگا۔ شفافیت صرف کامیاب امیدوار کے انتخاب کا نام نہیں، بلکہ ناکام امیدوار کو یہ یقین دلانے کا بھی نام ہے کہ اسے واقعی برابر موقع ملا تھا۔

 

 

محمد طارق خان کی چھ سالہ جدوجہد، ثنا کی عمر کی حد کے سامنے بند ہوتے مواقع، اسماء کا ایک دن سفر اور انتظار میں گزارنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس آنا، صائمہ کا 10 ہزار روپے خرچ کرنے کے بعد زبان کے معیار پر مسترد ہونا اور  کیرئیر کونسلر شمس مہمند کا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو نچلے گریڈ کی ملازمتوں کے لیے درخواست دیتے دیکھنا، سب ایک ہی مسئلے کے مختلف رخ ہیں۔

 

لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہے: نوجوان کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں صرف ایک موقع چاہیے۔

 

 

ایک ایسی ملازمت جس کے لیے انہیں پہلے سے طے شدہ فیصلے کا سامنا نہ کرنا پڑے، ایسا امتحان جس میں ان کی قابلیت واقعی دیکھی جائے اور ایسا انٹرویو جس میں واضح معیار ہو۔

 

سرکاری ملازمت ہر نوجوان کو دینا ممکن نہیں، لیکن ہر نوجوان کو باعزت روزگار کے لیے منصفانہ موقع دینا ریاست کی ذمہ داری ضرور ہے۔ اگر ایک آسامی کے باہر ہزاروں نوجوان کھڑے ہیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ ان میں سے نوکری کس کو ملے گی؛ سوال یہ بھی ہے کہ باقی ہزاروں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کب اور کہاں کھلیں گے؟