لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو کالجوں سے نکالنے سے روک دیا۔
افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے بے دخل کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ افغان طلبہ کے پاس درست ویزے موجود نہیں ہیں اور ان کے ویزے کارآمد نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایم ڈی سی کا افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کا حکم، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے 22 طلبہ کو فارغ کردیا
اس پر جسٹس خالد اسحاق نے سوال کیا کہ جب ان طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا تھا تو اس وقت انہیں تعلیمی ویزے کیسے جاری کیے گئے تھے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان طلبہ کی زندگی کے چار، چار سال ضائع کردیے گئے اور اب انہیں واپس بھیجنے کی بات کی جا رہی ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کو شاہی حکم موصول ہوا، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو کالجز سے نکالنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ان کا مؤقف سن لیا جاتا۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ جب ان طلبہ کے لیے حمایت کا اظہار کیا جا رہا تھا تو اس وقت پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دنیا بھر میں یہی اصول ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس درست ویزا نہ ہو تو وہ کسی ملک میں قیام نہیں کرسکتا۔
اس پر جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ کل تک یہ طلبہ ’’فیورٹ چائلڈ‘‘ تھے اور آج پالیسی تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر ان طلبہ کو واپس بھیجنا ہے تو میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھیجا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا پر لاکھوں اکاؤنٹس و مواد کیوں بلاک ہوئے؟ وجہ سامنے آگئی
جسٹس خالد اسحاق نے مزید کہا کہ امریکہ میں بھی کوئی شخص درست ویزے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہاں کی عدالتیں آزاد ہیں اور پاکستان میں بھی عدالتیں آزاد ہیں۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان طلبہ کو سزائے موت ہی دے دیں۔
اس موقع پر پی ایم ڈی سی کے وکیل نے کہا کہ ’’سر، یہ ریاستی سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔‘‘
جسٹس خالد اسحاق نے اس پر کہا کہ یہ ریاستی سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔
بعد ازاں عدالت نے حکم جاری کیا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج کسی طالب علم کو نہ نکالے گا اور نہ ہی اس کا پیپر کینسل کرے گا۔ عدالت نے درخواستوں پر مزید کارروائی 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبہ کو واپس افغانستان جانے کی ہدایت کی تھی۔
یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کے لیے ضروری انتظامی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ متعلقہ اداروں کو افغان طلبہ کے لیے مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔
مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران افغان شہریوں کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ افغان شہری میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن بھی نہیں کراسکیں گے۔
پی ایم ڈی سی نے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو یہ بھی ہدایت دی تھی کہ افغان شہریوں کو کسی قسم کی سہولت نہ دی جائے اور پہلے سے جاری ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے۔
جن اداروں نے تعمیلی رپورٹ جمع نہیں کرائی، انہیں تین روز کے اندر مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق ہدایات کی خلاف ورزی، معلومات چھپانے یا غیر مجاز سہولت فراہم کرنے کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کونسل کے مطابق ہدایات کی خلاف ورزی پر پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
