پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ریاست مخالف پروپیگنڈا، انتشار، دہشت گردی، فرقہ واریت، نفرت انگیزی، توہین مذہب، ہتک آمیز اور غیر اخلاقی مواد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 15 لاکھ 41 ہزار 479 اکاؤنٹس، ویب سائٹس، ویڈیوز اور دیگر مواد بلاک کردیا ہے۔

 

پی ٹی اے کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر خلاف ورزیوں کے حوالے سے فیس بک اور ٹک ٹاک سرفہرست ہیں، جبکہ قابل اعتراض مواد کی روک تھام کے ساتھ الیکٹرانک جرائم کے قوانین کے تحت متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے اور بعض ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: گینگ ریپ کیس میں گرفتار ملزمان کیسے ہلاک ہوئے؟ سی سی پی او نے تفصیلات بتا دیں

 

رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر سکیورٹی اداروں اور دفاع پاکستان کے خلاف 15 ہزار 356 اکاؤنٹس، ویب سائٹس، ویڈیوز اور دیگر مواد بلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ انتشار اور دہشت گردی سے متعلق 16 ہزار 934 مواد، توہین مذہب سے متعلق 5 ہزار 433، ہتک آمیز 2 ہزار 299، غیر اخلاقی 1 لاکھ 24 ہزار 974، نفرت پر مبنی 3 ہزار 859 اور دیگر 987 مواد کے خلاف کارروائی کی گئی۔

 

یوں ٹک ٹاک پر مجموعی طور پر 1 لاکھ 70 ہزار 231 اکاؤنٹس، ویب سائٹس، ویڈیوز اور دیگر مواد بلاک کیا گیا۔

 

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق فیس بک پر 2 لاکھ 29 ہزار 508، ٹویٹر پر 74 ہزار 236، یوٹیوب پر 66 ہزار 290، انسٹاگرام پر 44 ہزار 951، واٹس ایپ پر 50 ہزار 165 جبکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 8 لاکھ 91 ہزار 772 مواد بلاک کیا گیا۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائبر اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ بعض معاملات میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔

 

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بے چینی، بدامنی، فرقہ واریت، غیر اخلاقی اور ریاست مخالف مواد پھیلانے والی ویب سائٹس اور دیگر آن لائن مواد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے مختلف اداروں اور کالجز کے علاوہ ملک کی تقریباً 165 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

 

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے لیے اقدامات کررہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر جرائم اور خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے  پیکا قوانین کے علاوہ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی بھی کام کررہی ہے۔