ایاز مندوخیل
6 جولائی کو بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ایک حملے میں متعدد اہلکار شہید ہوئے۔ اس سانحے کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی کو کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں رکھا گیا۔ بعد ازاں شہداء کے لواحقین نے آل پارٹیز کی نگرانی میں کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر دھرنا شروع کیا۔
اس دھرنے میں شہداء کے لواحقین، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، کارکن، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندے، خواتین اور بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان: وانا میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام
احتجاجی شرکاء نے حکومت کے سامنے متعدد مطالبات پیش کیے، جن میں سانحۂ زیارت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام، دہشت گردی، بدامنی اور غیر قانونی مسلح گروہوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات، لیویز فورس کی بحالی اور اس کی استعدادِ کار میں اضافہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کی ازسرِ نو تقسیم، اور شہداء زیارت پولیس فورس کے جائز حقوق کو یقینی بنانا شامل تھے۔
خبروں میں زیادہ تر دھرنے کے مطالبات، حکومتی مذاکرات اور سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں کیا گیا، تاہم اسی دوران انسانیت، ہمدردی اور اجتماعی خدمت کی ایک ایسی خاموش داستان بھی رقم ہوئی، جو شاید زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکی، لیکن اپنی اہمیت کے اعتبار سے کسی بڑے واقعے سے کم نہیں تھی۔

بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے بہت سے شرکاء کے لیے رہائش، کھانے پینے، بستر اور دیگر بنیادی سہولیات کا انتظام ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسے مشکل وقت میں کوئٹہ کے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھ کر ان مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی اور دھرنے کے شرکاء کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
دھرنا کمیٹی اور کنٹینر سے وابستہ افراد کے مطابق مقامی تاجر حاجی سدو خان بیانزئی نے شہداء کے جسدِ خاکی کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا ایئرکنڈیشنڈ کنٹینر بلا معاوضہ فراہم کیا۔ ان کے مطابق دھرنے کے اختتام تک یہ کنٹینر اسی مقصد کے لیے وقف رہا۔
کنٹینر کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ اسے فعال رکھنے کے لیے روزانہ تقریباً 100 لیٹر ڈیزل درکار ہوتا تھا، تاہم اس کے باوجود کنٹینر کے استعمال کا کوئی معاوضہ یا کرایہ وصول نہیں کیا گیا۔

دھرنا کمیٹی کے مطابق مالی تعاون کے لیے صرف ایک ایزی پیسہ اکاؤنٹ جاری کیا گیا تھا تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ اگر وہ مالی تعاون کرنا چاہیں تو صرف اسی ذریعے سے کریں، جبکہ اس کے علاوہ کسی اور مقام پر چندہ جمع نہیں کیا جا رہا تھا۔
اس دوران کوئٹہ کے نوجوانوں نے بھی خدمت کی ایک قابلِ تحسین مثال قائم کی۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کیا اور روزانہ ہزاروں شرکاء کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ رضاکار دن رات کھانے کی تقسیم، پانی کی فراہمی اور دیگر ضروری انتظامات میں مصروف رہے۔
یہ جذبۂ خدمت صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی گاڑیوں میں پانی، شربت، کولڈ ڈرنکس، بریانی، چائے، بسکٹ اور دیگر ضروری اشیاء لے کر دھرنے کے مقام پر پہنچتے رہے۔ بعض افراد نے ضرورت مندوں کے لیے ادویات فراہم کیں، جبکہ کئی خواتین نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون کیا۔

رات کے وقت شرکاء کے آرام کے لیے بستر اور دیگر ضروری سامان کی ضرورت پیش آئی تو شہر کے متعدد دکانداروں نے بھی رضاکاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے چادریں اور دیگر ضروری اشیاء کم قیمت پر فراہم کیں، جنہیں بعد ازاں دھرنے کے شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔
یہ تمام کوششیں کسی ایک ادارے یا تنظیم کی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھیں بلکہ عام شہریوں، تاجروں، نوجوانوں، خواتین اور رضاکاروں کے اجتماعی شعور، احساسِ ذمہ داری اور جذبۂ خدمت کا عملی مظہر تھیں۔
ان اقدامات نے یہ ثابت کیا کہ مشکل حالات میں کسی معاشرے کی اصل طاقت صرف وسائل نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کا ساتھ دینے، ہمدردی بانٹنے اور ذمہ داری نبھانے کا جذبہ بھی اس کی مضبوطی کی بنیاد بنتا ہے۔
شہداء زیارت دھرنے کی یہ کہانی صرف ایک احتجاجی تحریک کی داستان نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، سماجی اتحاد اور باہمی تعاون کی بھی ایک روشن مثال ہے۔ اس دوران معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے دکھ اور آزمائش کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور ثابت کیا کہ اجتماعی احساس ہی کسی بھی بحران میں سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔

کوئٹہ کے یہ گمنام محسن، رضاکار، نوجوان، خواتین اور تاجر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بحران کے وقت معاشرے کی مضبوطی صرف اداروں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ شہریوں کے باہمی اعتماد، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے سے بھی قائم رہتی ہے۔
شاید یہی خاموش خدمت، بے لوث تعاون اور انسانی ہمدردی اس دھرنے کی سب سے خوبصورت، باوقار اور دیرپا یاد بن کر تاریخ کا حصہ رہے گی۔
