پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی شرعی رائے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ایک طرف معروف دینی حلقوں کی جانب سے کرپٹو کرنسی کو حرام  قرار دیے جانے کے بعد بہت سے افراد نے اس شعبے سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں دوسری جانب ہزاروں نوجوان، فری لانسرز اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد اپنے مستقبل اور روزگار کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار ہیں۔

 

 ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت، جدید مالیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان میں اس پیش رفت کے ممکنہ معاشی اور سماجی اثرات پر مختلف حلقوں کی آراء سامنے آ رہی ہیں۔

 

دارالعلوم کراچی سے منسوب شرعی رائے اور معروف مذہبی سکالر مفتی محمد تقی عثمانی کے مؤقف کے مطابق کرپٹو کرنسی میں متعدد شرعی اور مالیاتی پیچیدگیاں موجود ہیں، جن میں غیر یقینی، شدید اتار چڑھاؤ، حقیقی اثاثے کی نوعیت اور دیگر شرعی پہلو شامل ہیں۔ اسی بنیاد پر اس سے اجتناب کی رائے دی گئی ہے۔ فتوے کے مطابق کرپٹو کرنسی شریعت میں مال یا دولت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی۔

 

 

 اس شرعی رائے کے بعد خصوصاً ان نوجوانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے جنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں کرپٹو کرنسی اور آن لائن ذرائع آمدن کو اپنی معاشی زندگی کا اہم سہارا بنا لیا ہے ۔

 

اس فیصلے کے بعد نوجوانوں کو درپیش مشکلات اور متبادل مواقع کے حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کاروباری شخصیت حارث خان یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی روزگار کے مواقع نہایت محدود ہیں، ایسے میں آن لائن کاروبار نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن بن چکا ہے۔

 

حارث خان یوسفزئی کےمطابق، “پاکستان میں  سرکاری ملازمتیں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں، اسی وجہ سے لوگ، خاص طور پر نوجوان، آن لائن کاروبار اور کرپٹو کرنسی کی طرف آئے۔

 

 

 اب چونکہ اسے حرام قرار دیا گیا ہے اور ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ حلال ذرائع آمدن اختیار کریں۔ لیکن ہمارے  لیے سب سے بڑا چیلنج  یہ ہے کہ اگر نوجوان یہ ذریعہ بھی چھوڑ دیں تو پھر وہ روزگار کہاں سے حاصل کریں؟ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مواقع کی کمی نے نوجوانوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔”

 

وہ مزید کہتے ہیں، "سوات میں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر نوجوان یا تو بیرون ملک روزگار کے لیے جاتے ہیں یا پھر گزشتہ پانچ  برسوں سے بڑی تعداد میں کرپٹو کرنسی اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آمدنی حاصل کر رہے ہے ۔

 

 بہت سے نوجوان اس شعبے سے معاشی طور پر مستحکم بھی ہوئے ہیں ۔حارث خان یوسفزئی کے مطابق وہ خود بھی پیچھلے ایک سال سے کرپٹو کرنسی سے کما رہے تھے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر اب یہ راستہ بھی ختم ہو جاتا ہے تو خصوصاً سوات کے نوجوانوں کے لیے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔"

 

حارث خان یوسفزئی کے مطابق، “پاکستان کے بڑے بڑے کاروباری افراد بھی بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی کئی بڑی کمپنیاں  اور سرمایہ کار اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ 

 

 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنا ڈیجیٹل سکہ متعارف کرایا، جس میں لوگوں نے سرمایہ کاری کی۔ اسی طرح دنیا بھر میں لوگ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، لیکن اگر پاکستان میں اس شعبے پر پابندی یا سختی بڑھتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑے گا، کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ روزگار کا کوئی مضبوط ذریعہ موجود نہیں۔”

 

وہ مزید اس حوالے سے کہتے ہیں، “چونکہ ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں، اس لیے شریعت کے احکامات کو ترجیح دینا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرے۔

 

 حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں روزگار فراہم کرے، آن لائن کاروبار کے نئے ذرائع متعارف کرائے اور ایسی عالمی کمپنیاں پاکستان لانے کی کوشش کرے جو نوجوانوں کو روزگار فراہم کر سکیں۔

 

 اگر بین الاقوامی  تجارتی ادارے پاکستان میں اپنے مراکز قائم کریں تو ہزاروں نوجوانوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر سازی،  تجارت اور دیگر جدید شعبوں میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں تاکہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ کام کر سکیں اور باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔”

 

 

کرپٹو کرنسی پر سامنے آنے والی شرعی رائے کے معاشی اثرات پر ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی طور پر ان سے وابستہ افراد میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، تاہم مناسب حکومتی پالیسی اور جدید مہارتوں کی طرف منتقلی سے اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

 

اس حوالے سے جامعہ سوات کے شعبۂ معاشیات کے معاون پروفیسر، گولڈ میڈلسٹ اور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر نوید علی کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں معروف علماء کی شرعی آراء عوام کے معاشی فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں، اس لیے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سامنے آنے والی شرعی رائے کے بعد نوجوانوں پر اس کے اثرات مرتب ہونا ایک فطری امر ہے۔

 

ڈاکٹر نوید علی کے مطابق، “پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں معروف علماء کی شرعی رائے عوام کے معاشی فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ اگر نوجوان اس رائے کی وجہ سے کرپٹو سے دستبردار ہوتے ہیں تو مختصر مدت میں ان میں بے یقینی  پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جن کی آمدنی کا بڑا حصہ کرپٹو ٹریڈنگ یا اس سے متعلق خدمات سے وابستہ تھا۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ اور بلاک چین یا ویب تھری کی ٹیکنالوجی پر کام میں فرق کیا جائے۔ 

 

بہت سے پاکستانی نوجوان بلاک چین ڈیولپمنٹ، سمارٹ کنٹریکٹس، سائبر سکیورٹی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے ذریعے عالمی کمپنیوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان تکنیکی مہارتوں کی عالمی طلب برقرار ہے، اس لیے اگر مناسب رہنمائی اور متبادل مواقع فراہم کیے جائیں تو نوجوان اپنی صلاحیتوں کو محفوظ اور قانونی شعبوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔”

 

 

 

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر نوجوان بڑی تعداد میں اس شعبے سے نکلتے ہیں تو اس کے اثرات صرف روزگار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملکی معیشت اور زرمبادلہ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

 

ان کے مطابق، “اگر بڑی تعداد میں نوجوان اس شعبے سے نکلتے ہیں تو قلیل مدت میں روزگار اور زرمبادلہ کی آمد پر کچھ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بین الاقوامی اداروں یا کلائنٹس سے ادائیگیاں حاصل کرتے تھے یا بلاک چین سے متعلق خدمات برآمد کر رہے تھے۔

 

 البتہ اگر یہی نوجوان اپنی مہارتوں کو مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تجزیے، مالیاتی ٹیکنالوجی اور روایتی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں کی طرف منتقل کر دیں تو طویل مدت میں اس نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل سرمایہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتیں ہیں، نہ کہ صرف کرپٹو مارکیٹ۔”

 

ان کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی نوجوانوں کے لیے ایسے متبادل مواقع  پیدا کرنے ہوں گے جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

 

ڈاکٹر نوید علی کہتے ہیں، “پاکستان کو ایسی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے جو جدید بھی ہو، قانونی بھی ہو اور جہاں ممکن ہو شرعی اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔ اس مقصد کے لیے حکومت، جامعات اور نجی شعبے کو مل کر مصنوعی ذہانت، بلاک چین کے غیر مالیاتی استعمال، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، اسلامی مالیاتی ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر برآمدات، آئی ٹی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

 

 

 اس سے نوجوان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔”

ڈاکٹر نوید علی کے مطابق اس وقت سب سے اہم ضرورت واضح حکومتی پالیسی اور مؤثر ریگولیٹری نظام کی ہے تاکہ نوجوان غیر یقینی کی کیفیت سے نکل سکیں۔

 

حکومت کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر نوید علی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں دینی رہنمائی، معاشی استحکام اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

 

ان کے مطابق، "حکومت کو چاہیے کہ علماء، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ مشاورتی فورم قائم کرے۔

 

 ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے لیے واضح قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے۔ نوجوانوں کو کرپٹو ٹریڈنگ کے بجائے اعلیٰ معیار کی آئی ٹی مہارتوں، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور سافٹ ویئر برآمدات کی طرف منتقل کرنے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔ 

 

 

اسلامی مالیاتی اداروں کی مدد سے ایسے ڈیجیٹل مالیاتی ماڈلز تیار کیے جائیں جو شریعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں، جبکہ عوام میں مالیاتی آگاہی کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے فیصلے تحقیق، قانون اور خطرات کے درست ادراک کی بنیاد پر کیے جائیں۔ شرعی حکم کا تعین مستند علماء اور شرعی اداروں کا دائرۂ اختیار ہے، جبکہ معاشی پالیسی کا مقصد ایسے مواقع پیدا کرنا ہے جن سے نوجوانوں کی صلاحیتیں محفوظ رہیں، روزگار بڑھے اور ملکی معیشت عالمی ڈیجیٹل تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔"

 

دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والے سیلانی ویلفیئر کے چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کہا ہے کہ کرپٹو کرنسی جائز ہے اور اس حوالے سے 13 ماہ قبل فتویٰ جاری کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتویٰ اسلامی نظریاتی کونسل، اسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارت کو بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ سیلانی کرپٹو کرنسی کے معاملے میں ریاستی پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے۔

 

کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سامنے آنے والی شرعی رائے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ پاکستان میں جدید ڈیجیٹل معیشت، نوجوانوں کے روزگار اور دینی تقاضوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟