سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا (غواخوا) میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائی کے دوران بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو خودکش حملے سے قبل ہی تباہ کرکے ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گاڑی میں موجود دھماکا خیز مواد کسی بڑے دہشت گرد حملے میں استعمال کیا جانا تھا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے تین روز تک مشتبہ گاڑی کی نگرانی کی اور آبادی سے دور پہنچنے پر اسے نشانہ بنایا تاکہ شہریوں کی جان و مال کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی میں بارودی مواد سے بھری گاڑی اور ایک موٹر سائیکل تباہ ہوگئی، جبکہ ایک دہشت گرد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: سوات کے فلک سر ٹریک پر گلیشیئر پھٹ گیا، 3 افراد زخمی، ایک شخص لاپتہ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے نتیجے میں وانا اور گردونواح کی آبادی کو ممکنہ بڑے جانی و مالی نقصان سے محفوظ بنایا گیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
دوسری جانب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ڈیرہ اسماعیل خان ریجن نے انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع ٹانک کے علاقے کورائی، حدود تھانہ شورکوٹ میں ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا۔سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران مطلوب دہشت گرد خالد عرف کمانڈر ولد سدو زئی عرف الو زئی کو گھیرے میں لے کر متعدد بار ہتھیار ڈالنے کی ہدایت کی گئی، تاہم اس نے سرنڈر کرنے کے بجائے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک دہشت گرد 17 مارچ 2025 کو سی ٹی ڈی کے کانسٹیبل محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب تھا، جبکہ مقامی پولیس کو بھی مختلف مقدمات میں اس کی تلاش تھی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق وہ اپنی شناخت تبدیل کرکے نقل و حرکت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گرد کا تعلق ٹی ٹی پی کے ذاکر کوچی کاروان گروپ سے تھا۔ اس کے مبینہ سہولت کاروں، مالی معاونین اور لاجسٹک نیٹ ورک کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
کارروائی کے بعد ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے ایک نائن ایم ایم پستول، ایک ہینڈ گرینیڈ اور ایک اسمارٹ فون برآمد کیا گیا، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔
