سید ندیم مشوانی 

 

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے میاں عیسیٰ میں بیوہ خاتون کی چھپ کر چوتھی شادی کرنے پر اسے قتل کرکے لاش کے ٹکڑے دریا میں پھینکنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

 

 پولیس نے مقتولہ کے بڑے بھائی شیرباز خان کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر قتل اور لاش دریا میں پھینکنے کا اعتراف کیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ کے زیر اہتمام صوبائی گرینڈ جرگہ، ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ کے وفاقی ٹیکسوں پر کیا طے پایا؟

 

پولیس کے مطابق 29 سالہ تسمیہ نے مبینہ طور پر اس سے قبل تین شادیاں کی تھیں۔ اس کا تیسرا شوہر تقریباً دو سال قبل ضلع اٹک میں وفات پا گیا تھا، جس کے بعد وہ اپنے بھائیوں کے گھر میاں عیسیٰ میں رہائش پذیر تھی۔ بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر چھپ کر چوتھی شادی کر لی۔

 

 

پولیس کے مطابق 29 مئی کو تسمیہ اپنے بھائیوں کے گھر گئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتا ہوگئی۔ اس کے شوہر فضل رحمن کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کی تفتیش کے دوران مرکزی ملزم شیرباز خان کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کی کہ بہن کی چھپ کر شادی کرنے پر اسے قتل کیا گیا۔ ملزم کے مطابق قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کیے گئے، انہیں بوری میں بند کیا گیا اور بعد ازاں دریا میں پھینک دیا گیا۔

 

سینئر سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ نوشہرہ نے ملزم شیرباز خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کو مزید تفتیش کی اجازت دے دی ہے۔

 

ڈی ایس پی آکوڑہ خٹک عدنان اعظم کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر مقتولہ کی باقیات کی تلاش جاری ہے، جس کے لیے ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی (ایریگیشن) اور دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔