وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سوات کے دورے کے دوران اربوں روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر انہوں نے 9.9 ارب روپے کی لاگت سے قائم یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کبل کا افتتاح کیا، جبکہ 1.437 ارب روپے لاگت کے وینئی تا گٹ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔
حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں اس وقت بی ایس کے چار اور ایم ایس کے دو تعلیمی پروگرامز جاری ہیں، جہاں 269 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
وزیراعلیٰ نے 39.5 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے بدلئی پل کا افتتاح بھی کیا، جس سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں سہولت میسر آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے: طورخم بارڈر کی بندش نے مقامی لوگوں کے سرحدی کاروبار کو کہاں لا کھڑا کیا؟
اسی دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے 21.4 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ سپیشل چلڈرن اسکول اور سپیشل چلڈرن ٹیچر ٹریننگ سینٹر کا بھی افتتاح کیا، جس سے خصوصی بچوں کی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت کے شعبے کو مزید تقویت ملے گی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کبل پولیس سہولت مرکز کا بھی افتتاح کیا۔ اس مرکز میں شہریوں کو پولیس کلیئرنس، کریکٹر سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید، گاڑیوں کی تصدیق سمیت دیگر متعدد پولیس خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مراد سعید نوجوانوں کے سیاسی استاد ہیں اور سوات کی ترقی کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز مراد سعید کا منصوبہ ہے، جس کی زمین قبضہ مافیا سے قبضہ ختم کروا کر منصوبہ مکمل کیا گیا، جبکہ شہید ارشد شریف یونیورسٹی اور دیگر کیمپسز کو بھی مکمل فنڈنگ فراہم کرکے جلد مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 میں عمران خان نے ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کو ٹیکس سے مستثنیٰ کیا تھا، موجودہ حکومت بھی ان علاقوں کو فوری طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر کل پارلیمنٹیرینز اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ 80 ہزار قربانیوں کے بعد قائم ہونے والے امن کو دوبارہ دہشت گردی کی نذر کیا گیا، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مفادات کے خلاف ہر پالیسی کی مخالفت کریں گےاور صوبے میں پائیدار امن عوام، پولیس اور سی ٹی ڈی کی کوششوں اور قربانیوں سے ہی قائم ہوگا۔
