زالان آفریدی 

 

طورخم بارڈر گزشتہ تقریباً دس ماہ سے مختلف اوقات میں بندش اور تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کا شکار ہے، جس کے باعث لنڈی کوتل اور طورخم کی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو گئی ہے۔

 

 سرحدی تجارت متاثر ہونے سے نہ صرف لنڈی کوتل بازار بلکہ طورخم مارکیٹ بھی تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جبکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

 

مقامی تاجر میاں امان نے بتایا کہ بارڈر بند ہونے کے بعد بازار میں خریداروں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے مقامی افراد کے ساتھ ساتھ افغان شہری بھی خریداری کے لیے آتے تھے، مگر اب بیشتر دکانیں دن کے وقت ہی بند ہو جاتی ہیں کیونکہ کاروبار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: اپر کوہستان: شک کی بنیاد پر 22 سالہ خاتون اور پولیس اہلکار قتل

 

ہول سیل تاجر رحمان علی کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت معطل ہونے سے ان کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کے رک جانے سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

 

 

تاجروں کے مطابق بارڈر کی بندش کے باعث تقریباً 2,500 مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ 3,000 کے قریب ٹیکسی ڈرائیور بھی روزگار سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل بازار اور طورخم مارکیٹ کی بندش سے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

 

مقامی ریسٹورنٹ مالک ذوالفقار شینواری نے بتایا کہ پہلے روزانہ بڑی تعداد میں گاہک آتے تھے اور کئی دنبے ذبح کیے جاتے تھے، لیکن اب گاہکوں کی کمی کے باعث دو سے تین دنبوں کا گوشت فروخت کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جانوروں کی آمد بند ہونے کے باعث مٹن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے کاروبار مزید متاثر ہوا ہے۔

 

مقامی تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر کو جلد از جلد مستقل بنیادوں پر کھولا جائے تاکہ پاک۔افغان تجارت بحال ہو، ہزاروں افراد کا روزگار دوبارہ بحال ہو، مقامی معیشت کو سہارا ملے اور قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا سلسلہ بھی روکا جا سکے۔

 

دوسری جانب غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ روز حمزہ بابا ٹرانزٹ کیمپ سے 2,117 غیر قانونی افغان باشندوں کو طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا گیا۔

 

ڈپٹی کمشنر خیبر کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر نے حمزہ بابا ٹرانزٹ کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نادرا، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کے ہمراہ غیر قانونی افغان باشندوں کی رجسٹریشن، وطن واپسی کے انتظامات، کیمپ میں دستیاب سہولیات اور مختلف محکموں کے عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

 

 

دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے کیمپ میں موجود افغان باشندوں سے ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ افغان باشندوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ عملے کو خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور تمام سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

 

حکام کے مطابق رجسٹریشن کے عمل کو مزید تیز کرنے اور بڑھتے ہوئے رش سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے نادرا کے اضافی عملے کو تعینات کیا گیا، تاکہ وطن واپسی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

 

بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر نے طورخم زیرو پوائنٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے رجسٹرڈ غیر قانونی افغان باشندوں کی افغانستان روانگی کے عمل کی نگرانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے واپس جانے والے افغان باشندوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔