ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے 6 ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی، ایم ٹی آئی اسپتالوں اور صحت کارڈ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ، ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

 ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن   کے مطابق کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن کے ثبوت فراہم کیے جا چکے ہیں، تاہم 40 روز گزرنے کے باوجود ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ اپنے وعدے کے مطابق محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن میں ملوث افراد کو عوام کے سامنے لائیں، بصورت دیگر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کرپشن کے ثبوت منظرعام پر لاتے ہوئے ہیلتھ بچاؤ تحریک شروع کرے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا پولیس میں نئی بھرتیاں مکمل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کتنے اہلکاروں کو تقرری نامے دیے؟

 

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے بعد وزیراعلیٰ نے انکوائری کا اعلان کیا تھا۔

 

 انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تمام شواہد انکوائری کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیے، تاہم اب تک نہ انکوائری رپورٹ منظرعام پر لائی گئی اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ فکسڈ پے میڈیکل آفیسرز کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ثبوت بھی وزیراعلیٰ کو فراہم کیے گئے، لیکن اس معاملے میں بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

 

ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ صوبے میں اس وقت 6 ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی ہیں، جنہیں فوری طور پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کیا جائے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور بھرتیوں کے نام پر مبینہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم ٹی آئی اسپتالوں اور صحت کارڈ پروگرام میں بدعنوانی جاری ہے جبکہ اب تک کسی بھی ایم ٹی آئی اسپتال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ نہیں کرایا گیا۔ ان کے بقول چیئرمین، منیجنگ ڈائریکٹرز اور دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں سفارش اور سیاسی بنیادوں پر کی گئیں، جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے ساتھ بھی غیر معیاری کمپنیاں منسلک ہیں۔

 

ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کا وعدہ کیا تھا، مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وائی فائی منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے اور بیوروکریسی کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے فنڈز مختص کیے، لیکن صحت کے نظام کو بہتر بنانے، ہاؤس آفیسرز، ٹرینی میڈیکل آفیسرز اور دیگر ڈاکٹروں کے لیے مناسب وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پانچ ہزار بستروں پر مشتمل نئے اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم موجودہ بجٹ میں نئے اسپتالوں کے لیے صرف 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے یہ منصوبہ بروقت مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

 

ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں وارڈز، آئی سی یو، بستروں اور ادویات کی شدید کمی ہے۔ ایک ایک بستر پر دو دو مریض زیر علاج ہیں، جس کا دباؤ ڈاکٹروں پر پڑ رہا ہے اور اکثر انہیں مریضوں کے لواحقین کے ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن کی تمام انکوائری رپورٹس منظرعام پر لائی جائیں، خالی آسامیوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کی جائیں، ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، ایم ٹی آئی اسپتالوں اور صحت کارڈ پروگرام کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پشاور پریس کلب اور نشتر ہال میں کنونشن منعقد کرکے محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن کے ثبوت عوام کے سامنے پیش کرے گی اور ہیلتھ بچاؤ تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔