خیبرپختونخوا پولیس فورس کی افرادی قوت اور آپریشنل استعداد بڑھانے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبے کے آٹھوں ڈویژنز سے 4,306 پولیس کانسٹیبلز کی بھرتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کامیاب امیدواروں میں تقرری کے احکامات تقسیم کر دیے۔

 

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی بھرتی مکمل میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کی گئی ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی دیانتداری، ایمانداری اور میرٹ کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق ہر شعبے میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: مون سون شجرکاری مہم کا آغاز، خیبرپختونخوا کو سرسبز بنانے کے لیے کتنے لاکھ پودے لگائے جائیں گے؟

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور اسپیشل برانچ اپنی بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت ملک بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

 

 

 انہوں نے نئے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ ایک عظیم فورس کا حصہ بننے کے ناطے اس کی عزت، وقار اور روایات کا ہر حال میں خیال رکھیں، کسی بھی دباؤ یا مداخلت کے سامنے نہ جھکیں اور جرائم کے خاتمے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں لڑ رہی ہے۔ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، مگر خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ 22 برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

 

 انہوں نے پولیس کی قربانیوں اور جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی ہے اور امن کے مکمل قیام تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

 

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، احترام اور انصاف کے ساتھ پیش آنا ہی ایک اچھے پولیس اہلکار کی پہچان ہے، جبکہ صوبائی حکومت پولیس فورس کی ہر مرحلے پر مکمل معاونت جاری رکھے گی۔

 

انہوں نے خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ خواتین کے لیے انٹرن شپ پالیسی، بلاسود قرضوں اور دیگر حکومتی پروگراموں میں انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

 

اپنے خطاب کے سیاسی حصے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن گزشتہ 78 برس سے ملک میں جمہوری عمل کو محدود کیا جاتا رہا اور اس کا الزام سیاستدانوں پر عائد کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات میں نہتے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسوں پر ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ کم عمر بچوں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا جاتا ہے۔