صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026 کی منظوری دے دی، جس کے تحت صحت کارڈ پلس کو او پی ڈی تک توسیع، جدید طبی سہولیات کے قیام، ٹیلی میڈیسن کے فروغ، زچہ و بچہ نگہداشت میں بہتری اور سرکاری صحت کے نظام میں وسیع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق نئی ہیلتھ پالیسی کا مقصد ہر شہری کو بلاامتیاز معیاری اور قابل رسائی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
پالیسی کے تحت آئی سی یو، سی سی یو، ٹراما اور برن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، کمزور کارکردگی والے سرکاری صحت مراکز کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، جبکہ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی دور کرنے، ادویات اور ویکسین کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ہیلتھ پالیسی کے علاوہ موٹر وہیکلز آرڈیننس اور رولز 1965 میں ذاتی رجسٹریشن نمبر کے نظام میں ترامیم، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت قواعد 2026، صفوت غیور شہید میموریل ہسپتال پشاور کی توسیع، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور انٹرنیشنل کرین فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت، جبکہ ضلع خیبر کے جمرود کمپلیکس میں ایکسائز پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی گئی۔
شفیع جان نے بتایا کہ عوام دوست صحت کا نظام قائم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ صحت کے شعبے میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں زچہ و بچہ نگہداشت کی سہولیات میں اضافہ، ٹیلی میڈیسن کے فروغ، بزرگ شہریوں کے لیے جیریاٹرک میڈیسن کے آغاز، بیماریوں کی مؤثر نگرانی، صاف پانی، صفائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق پالیسی کے تحت صحت دشمن مصنوعات پر ٹیکس عائد کرکے حاصل ہونے والی رقم صحت مند طرزِ زندگی اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جبکہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز میں مزید اصلاحات اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے پیشہ ورانہ تحفظ و صحت قواعد 2026 کی بھی منظوری دی، جس کے تحت تمام اداروں میں محفوظ کام کا ماحول یقینی بنایا جائے گا۔ قواعد کے مطابق کمپنیاں ملازمین کو حفاظتی آلات فراہم کرنے اور حفاظتی انتظامات پر عمل درآمد کی پابند ہوں گی، جبکہ 50 سے زائد ملازمین والے اداروں میں سیفٹی نمائندے اور 100 سے زائد ملازمین والے اداروں میں سیفٹی افسران تعینات کیے جائیں گے۔
کابینہ نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو انٹرنیشنل کرین فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی اجازت بھی دی، جس کا مقصد کرین پرندوں اور ان کے قدرتی مسکن کا تحفظ ہے۔ علاوہ ازیں صفوت غیور شہید میموریل ہسپتال پشاور کی توسیع اور ضلع خیبر کے جمرود کمپلیکس میں ایکسائز پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی گئی۔
