پشاور کے علاقے شاہ عالم میں پولیو مہم کے دوران پیش آنے والا واقعہ تنازع بن گیا، لیڈی ہیلتھ ورکر نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم محمد الیاس اور ان کے گنرز پر تشدد، گھر میں داخل ہونے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے الزامات عائد کر دیے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے تمام الزامات مسترد کر دیے۔

 

لیڈی ہیلتھ ورکر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پولیو ٹیم بچوں کو قطرے پلانے کے لیے ان کے گھر پہنچی، تاہم اس وقت بچے رشتہ داروں کے گھر گئے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اسی بات پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے گنرز نے پہلے تلخ کلامی کی اور پھر ان کے شوہر سعید اور بھائی شوکت کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گنرز بغیر لیڈی پولیس کے گھر میں داخل ہوئے، انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا، ان کا آئی فون توڑ دیا اور کپڑے پھاڑ دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اور بھائی کو پورے گاؤں کے سامنے تشدد کے بعد گاڑی میں ڈال کر تھانے منتقل کیا گیا، جہاں ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کیسے ملے گی؟ خیبرپختونخوا کا ڈیجیٹل معاوضہ نظام متعارف

 

لیڈی ہیلتھ ورکر نے الزام عائد کیا کہ سرکاری اہلکاروں نے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور ایک خاتون پر تشدد کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔

 

 انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے واقعے کا نوٹس لے کر انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مبینہ تشدد کی ویڈیو بھی میڈیا کو فراہم کی۔

 

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ پشاور نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ ایسے خاندان سے متعلق ہے جو گزشتہ کئی پولیو مہموں کے دوران بچوں کو پولیو کے  قطرے پلانے سے مسلسل انکار کرتا آ رہا تھا۔

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم محمد الیاس پولیو ٹیم کے ہمراہ سرکاری ڈیوٹی پر عبدالسعید کے گھر گئے، جہاں شوکت کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس نے انکار کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں سے بدتمیزی کی۔

 

بیان کے مطابق شوکت نے ایک گنر سے سرکاری رائفل چھیننے کی کوشش کی اور اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی، جس کے بعد اسے قانونی کارروائی کے لیے گرفتار کر کے پولیس پوسٹ پجگی منتقل کر دیا گیا۔

 

ضلعی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ جھگڑے کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکر نے بھی ایک گنر کو تھپڑ مارا، تاہم سرکاری اہلکاروں نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق نہ کوئی سرکاری گنر گھر کے اندر داخل ہوا اور نہ ہی کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی یا تشدد کیا گیا۔

 

 ضلعی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے ذمہ دار ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔