نازیہ سالارزئی
ہمارے معاشرے میں جب کسی عزیز کا انتقال ہوتا ہے تو گھر غم میں ڈوبا ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنے پیارے کو کھونے کا دکھ، دوسری طرف تدفین اور دیگر معاملات کی ذمہ داریاں، لیکن ان سب کے ساتھ ایک ایسا دباؤ بھی اہلِ خانہ کا پیچھا کرتا ہے جس کا تعلق غم سے نہیں بلکہ معاشرے سے ہوتا ہے، اور وہ ہے "خیرات کی رسم"۔
جوں ہی کسی کے انتقال کی خبر پھیلتی ہے، کچھ ہی دن بعد سوال شروع ہو جاتے ہیں۔ خیرات کب ہوگی؟ کتنے لوگ آئیں گے؟ کیا پکایا جائے گا؟ گویا دکھ بانٹنے کے بجائے ایک نئی آزمائش کھڑی کر دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا آپ سوات کی اُن عظیم تاریخی شخصیات کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنے علم، ہنر اور بے مثال خدمات سے تاریخ رقم کی؟
آج خیرات بہت سے گھروں میں عبادت سے زیادہ سماجی مقابلہ بن چکی ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ مرحوم کے گھر والے کس مالی حالت میں ہیں، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ دسترخوان کتنا بڑا تھا، کتنے پکوان تھے اور کتنے لوگوں کو کھانا کھلایا گیا۔ اگر انتظام معمولی ہو تو تنقید شروع ہو جاتی ہے، اور اگر شاندار ہو تو تعریفیں ہونے لگتی ہیں۔ یہی رویہ لوگوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کتنے ہی ایسے خاندان ہیں جو اپنے پیارے کے انتقال کے بعد قرض لے کر خیرات کرتے ہیں۔ بعض اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں، بعض زیور بیچ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ لوگ انگلی نہ اٹھائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی غمزدہ خاندان پر ایسا بوجھ ڈالنا انسانیت ہے؟
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو تسلی دینی چاہیے، وہی غیر محسوس انداز میں توقعات کا بوجھ بڑھا دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے، "اتنے لوگوں کو تو ضرور بلانا چاہیے"، کوئی مشورہ دیتا ہے، "کھانے میں یہ چیز بھی ہونی چاہیے"، اور کوئی پچھلی خیراتوں سے موازنہ شروع کر دیتا ہے۔ یوں ایک غمزدہ خاندان اپنے دکھ سے زیادہ لوگوں کی باتوں سے پریشان ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کسی کے پاس صرف چند ہزار روپے ہیں تو کیا وہ وہی خرچ کرے جو لاکھوں روپے کمانے والا کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہر انسان کی مالی حیثیت مختلف ہوتی ہے، لیکن ہمارا معاشرہ اکثر اس فرق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
اصل مسئلہ خیرات نہیں بلکہ اس سے جڑی وہ سوچ ہے جس نے اسے ایک سماجی رسم بنا دیا ہے۔ اگر خیرات صرف اس لیے کی جا رہی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، تو پھر یہ نیکی کم اور معاشرتی دباؤ زیادہ بن جاتی ہے۔
ضروری نہیں کہ بڑی بڑی دیگیں پکائی جائیں۔ اگر استطاعت کم ہے تو چند مستحق افراد کو کھانا کھلا دیں، کسی غریب کے گھر راشن پہنچا دیں، کسی یتیم کی ضرورت پوری کر دیں یا کسی بیمار کے علاج میں مدد کر دیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف ایک ضرورت مند کی زندگی آسان ہوگی بلکہ مرحوم کے نام پر کیا جانے والا نیک عمل بھی حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوچ کو بدلیں۔ غمزدہ خاندانوں پر رسموں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کا سہارا بنیں۔ ان سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ لوگوں کو متاثر کریں، بلکہ انہیں یہ احساس دلائیں کہ سادگی میں بھی عزت ہے اور استطاعت کے مطابق کیا گیا ہر نیک عمل قابلِ قدر ہے۔
کیونکہ معاشرے کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ خیرات کتنی بڑی تھی، بلکہ اس میں ہے کہ کسی غمزدہ خاندان کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے بجائے اس کا بوجھ کتنا ہلکا کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
