موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شدید گرمی کے باعث لوگوں کو مختلف صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) سب سے عام مسئلہ ہے۔
خاص طور پر بچے، بزرگ اور وہ افراد جو زیادہ وقت دھوپ یا کھلے ماحول میں گزارتے ہیں، اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اگر بروقت احتیاط نہ کی جائے تو ڈی ہائیڈریشن سنگین طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اس بلاگ میں ہم جانیں گے کہ ڈی ہائیڈریشن کیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں، اس کی علامات کیسے ظاہر ہوتی ہیں اور گرمیوں میں اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
ڈی ہائیڈریشن کیا ہے؟
اس حوالے سے مردان سے تعلق رکھنے والی ماہرِ غذائیت ڈاکٹر شازیہ نے بتایا کہ ڈی ہائیڈریشن ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جسم سے پانی اور ضروری نمکیات (الیکٹرولائٹس) اس حد تک خارج ہو جاتے ہیں کہ جسم کی معمول کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ ان کے مطابق انسانی جسم تقریباً 60 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور یہی پانی جسم کے تمام اعضاء کو درست طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جب جسم پسینے، پیشاب یا دیگر وجوہات کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ پانی کھو دیتا ہے اور اس کمی کو بروقت پورا نہیں کیا جاتا تو ڈی ہائیڈریشن پیدا ہو جاتی ہے۔
ڈی ہائیڈریشن کیوں ہوتی ہے؟
ماہرِ غذائیت ڈاکٹر شازیہ کے مطابق گرمیوں میں ڈی ہائیڈریشن کی سب سے بڑی وجہ جسم سے پانی کا ضرورت سے زیادہ ضائع ہونا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی میں جسم اپنا درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کے ساتھ ساتھ ضروری نمکیات بھی جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اگر اس دوران مناسب مقدار میں پانی اور الیکٹرولائٹس استعمال نہ کیے جائیں تو جسم میں پانی کی کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باپ نے روایت توڑی، بیٹی نے تاریخ رقم کر دی: حافظِ قرآن اور باکسر عائشہ آفریدی کی کہانی
انہوں نے مزید بتایا کہ کم پانی پینا، شدید گرمی میں زیادہ دیر تک رہنا، سخت جسمانی مشقت یا ورزش کرنا، مسلسل پسینہ آنا، الٹی یا بخار کی وجہ سے جسم سے پانی کا زیادہ ضائع ہونا اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال بھی ڈی ہائیڈریشن کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ڈی ہائیڈریشن کی علامات
جسم میں پانی کی کمی پیدا ہونے پر مختلف علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر شدید پیاس لگتی ہے، منہ اور گلا خشک ہو جاتا ہے، چکر آنے لگتے ہیں اور جسم میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ سر درد، پیشاب کی مقدار میں کمی یا اس کا گہرا رنگ، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، تھکاوٹ اور سستی بھی ڈی ہائیڈریشن کی نمایاں علامات ہیں۔ اگر یہ علامات شدت اختیار کر جائیں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر شازیہ کے مطابق بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور وہ افراد جو زیادہ وقت باہر کام کرتے ہیں، ان میں پانی کی کمی نسبتاً جلد پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ان افراد میں ان علامات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
گرمیوں میں ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
اس حوالے سے ماہرِ غذائیت نے بتایا کہ گرمیوں میں ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے سب سے پہلے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت اپنانی چاہیے۔ عام حالات میں کم از کم آٹھ سے بارہ گلاس پانی پینے کی کوشش کرنی چاہیے، جبکہ اگر کوئی شخص زیادہ گرمی یا ایسے ماحول میں کام کرتا ہے جہاں زیادہ پسینہ آتا ہو تو اسے پانی کی مقدار مزید بڑھا دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف پانی پینا ہی کافی نہیں بلکہ جسم میں ضروری نمکیات کی کمی کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ لیموں پانی، او آر ایس اور ناریل کا پانی جسم میں الیکٹرولائٹس کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ڈاکٹر شازیہ کے مطابق صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک، جب دھوپ کی شدت زیادہ ہوتی ہے، غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہننے چاہییں تاکہ جسم ٹھنڈا رہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تربوز، خربوزہ، کھیرا، ٹماٹر، سنگترہ اور دیگر موسمی پھل جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس کے برعکس چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے ان مشروبات کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ بچے کھیل میں مصروف ہو کر پانی پینا بھول جاتے ہیں، جبکہ بزرگوں کو اکثر پیاس کم محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً انہیں پانی پینے کی یاد دہانی کرائی جائے۔
صحت مند رہنے کے لیے احتیاط ضروری
شدید گرمی کے موجودہ موسم میں ڈی ہائیڈریشن ایک عام مگر خطرناک مسئلہ بن چکی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی نہ صرف روزمرہ زندگی کی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا کا استعمال، دھوپ سے احتیاط، جسم میں الیکٹرولائٹس کا توازن برقرار رکھنا اور جسم کے اشاروں پر بروقت توجہ دینا ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کے مؤثر ترین طریقے ہیں۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں ان آسان احتیاطی تدابیر کو اپنا لیں تو نہ صرف گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اپنی مجموعی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
