قبائلی اضلاع برسوں سے پسماندگی، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں، جہاں خصوصاً لڑکیوں کے لیے تعلیم اور کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، سخت رسم و رواج اکثر ان کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔


تاہم، بوڑہ سب ڈویژن حسن خیل آدم خيل سے تعلق رکھنے والے یوسف آفریدی نے روایت سے ہٹ کر اپنی 13 سالہ بیٹی عائشہ آفریدی کے خوابوں پر یقین کیا اور ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا۔ آج اسی اعتماد اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ عائشہ آفریدی حسن خیل کی کم عمر ترین باکسر بن چکی ہیں۔ قومی سطح پر متعدد مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے حال ہی میں حیدرآباد میں منعقدہ انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ میں "نیشنل باکسنگ چیمپئن" کا گولڈ میڈل اور "آل پاکستان بہترین باکسر" کا اعزاز اپنے نام کر کے نہ صرف اپنے والدین بلکہ اپنے قبیلے اور علاقے  کا نام بھی روشن کیا ہے۔


یوسف آفریدی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں نہ مناسب تعلیمی ادارے موجود ہیں، نہ کھیلوں کی معیاری اکیڈمیاں اور نہ ہی ایسے مواقع جن کے ذریعے بچیاں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔
"قبائلی علاقوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، صرف مواقع کی کمی ہے۔"


انہوں نے بتایا کہ بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر انہوں نے اپنے آبائی گاؤں سے نقل مکانی کرکے کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کے بچوں کو تعلیم اور کھیلوں کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔ ان کے مطابق یہی فیصلہ عائشہ کی زندگی میں ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہوا۔

 

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، وزارتِ داخلہ نے نئی ڈیڈ لائن جاری کر دی

 


سماجی دباؤ اور روایتی رکاوٹوں پر بات کرتے ہوئے یوسف آفریدی نے کہا کہ انہوں نے ان رسم و رواج کی پرواہ نہیں کی جو اکثر لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔
"جب قبائلی عورت سر پر لکڑیاں اٹھا سکتی ہے، کھیتوں میں کام کر سکتی ہے اور پانی لا سکتی ہے تو پھر وہ صرف انہی کاموں تک کیوں محدود رہے؟ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، لیکن ہم اسے وہ مواقع اور حقوق نہیں دیتے جن کی وہ حقدار ہے۔"

 


عائشہ کی کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے یوسف آفریدی نے کہا کہ وہ اور ان کا پورا خاندان اس کی کامیابی پر فخر محسوس کرتا ہے اور ابتدا ہی سے ہر قدم پر اس کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے۔ ان کا ضمیر مطمئن ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا خواب پورا کرنے میں اس کا ساتھ دیا اور آج عائشہ نے یہ اعلیٰ اعزاز حاصل کر کے ان کی محنت کو کامیابی میں بدل دیا۔


انہوں نے کہا، "جب عائشہ نے گولڈ میڈل جیتا تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ یہ صرف ہماری بیٹی کی کامیابی نہیں بلکہ پورے قبیلے اور علاقے کے لیے ایک مثبت  پیغام تھا کہ اگر بچیوں کو مواقع دیے جائیں تو وہ ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔"
یوسف آفریدی نے عائشہ کی کامیابی کا سہرا اس کے کوچز اور اساتذہ کے سر بھی باندھا۔ ان کا کہنا تھا کہ باکسنگ اکیڈمی کے کوچز اور اساتذہ نے خلوص اور محنت کے ساتھ اس کی تربیت کی اور ان کی رہنمائی کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔


انہوں نے بتایا کہ عائشہ نہ صرف ایک کامیاب باکسر ہیں بلکہ حافظِ قرآن بھی ہیں اور ساتویں جماعت کی طالبہ بھی ہیں۔ ان کے مطابق عائشہ نے ثابت کیا ہے کہ تعلیم اور کھیل کو ایک ساتھ کامیابی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اس میں صلاحیت تھی اور اس نے اپنی محنت سے اسے ثابت بھی کر دکھایا۔ اسے بین الاقوامی سطح پر مختلف سرٹیفکیٹس بھی مل چکے ہیں۔
اپنی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے یوسف آفریدی پُرامید ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ عائشہ ایک دن بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرے اور دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرے۔
"اگر عائشہ کو بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کا موقع اور مناسب سپورٹ دی جائے تو وہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکتی ہے۔"

 


انہوں نے حکومت اور کھیلوں سے متعلق اداروں سے اپیل کی کہ عائشہ سمیت قبائلی علاقوں کے دیگر باصلاحیت بچوں کو بھی مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔
آخر میں یوسف آفریدی نے اپنا ایوارڈ قبائلی اضلاع میں امن کے نام کرتے ہوئے کہا، "ہم امن چاہتے ہیں، تعلیم چاہتے ہیں اور ترقی کے خواہشمند ہیں۔ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں اور بچیوں کو مواقع دیے جائیں تاکہ وہ بھی ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔"


قبائلی علاقوں کے والدین کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں، ان کی بات سنیں، انہیں دوست بنائیں اور ان کے خوابوں کی تکمیل میں ان کا ساتھ دیں۔ جب والدین بیٹیوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور رسم و رواج کی غیر ضروری بندشوں کو توڑتے ہیں تو یہی بیٹیاں خاندان، قبیلے اور پورے ملک کا نام روشن کرتی ہیں۔