پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے مون سون کے نئے اسپیل کے پیش نظر مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سمیت شمالی اضلاع میں شدید بارشوں، اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلیں پھٹنے (GLOF)، لینڈ سلائیڈنگ، آندھی اور گرج چمک کے خدشے پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آج رات سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جبکہ بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہوائیں بھی اس سسٹم کا حصہ بنیں گی۔
یکم جولائی سے بارشوں میں شدت آنے کا امکان ہے، جبکہ بلند درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور اچانک سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز چوبیس گھنٹے فعال رکھے جائیں، حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، جبکہ ریسکیو مشینری، بھاری آلات، ڈی واٹرنگ پمپس، کشتیاں اور امدادی سامان پیشگی تیار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: سونا ہزاروں روپے سستا، جانیں فی تولہ سونا اب کتنے کا ہو گیا؟
سڑکوں، پلوں اور دریاؤں کی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔
اتھارٹی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بارشوں کے دوران سیلابی نالوں، دریاؤں اور پانی کے تیز بہاؤ والے راستوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، بچوں کو پانی کے قریب نہ جانے دیں اور پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت میں فوری طور پر محفوظ اور بلند مقام پر منتقل ہو جائیں۔
گلیشیائی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں اور دریاؤں کے کنارے قیام نہ کریں۔ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے، غیر معمولی آوازوں یا کسی بھی وارننگ کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہو کر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں۔
پی ڈی ایم اے نے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ چٹانوں، کھڑی ڈھلوانوں اور پہلے سے متاثرہ راستوں سے دور رہیں اور جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہو وہاں متبادل راستے اختیار کریں۔
آندھی اور گرج چمک کے دوران مضبوط عمارت یا محفوظ پناہ گاہ میں رہنے، کھلے میدانوں، اونچے درختوں، پہاڑی چوٹیوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر سے پہلے موسم اور سڑکوں کی تازہ صورتحال ضرور معلوم کریں، شدید بارشوں کے دوران ٹریکنگ، ہائیکنگ، کیمپنگ اور دریاؤں یا گلیشیئرز کے قریب تفریح سے گریز کریں، جبکہ ضروری خوراک، پینے کا پانی، ادویات اور ہنگامی سامان ساتھ رکھیں اور صرف محفوظ ہوٹلوں یا گیسٹ ہاؤسز میں قیام کریں۔
