سہیل احمد 

 

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقے رباط میں 19 سالہ لڑکی کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 19 سالہ کرشمہ کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے چچا کے گھر رہائش پذیر تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے والد بیرونِ ملک ملازمت کرتے ہیں جبکہ والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔

 

پولیس کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور قتل میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

 

دوسری جانب مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ کرشمہ کو مبینہ طور پر پہلے رسی سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا، جس کے بعد اس پر متعدد گولیاں چلائی گئیں۔ مقامی افراد کے مطابق قتل کی مبینہ وجہ ایک لڑکے سے موبائل فون پر رابطے کا شبہ تھا۔

 

مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خبر فائل کیے جانے تک واقعے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، تاہم پولیس نے قتل کے محرکات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

 

علاقے کے مشران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقتولہ کی نمازِ جنازہ ادا کیے بغیر تدفین کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، بصورت دیگر وہ احتجاجاً دیر۔چترال مرکزی شاہراہ بند کریں گے۔

 

مشران کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اور کرشمہ کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مقتولہ کم عمر تھی اور اسے مبینہ طور پر رسی سے گلا گھونٹنے کے بعد کلہاڑی اور فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا۔

 

یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتا ہے، جہاں قانونی تحفظات کے باوجود خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے نیشنل پولیس بیورو کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں کم از کم 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل کا نشانہ بنیں۔ ان میں پنجاب میں 189، سندھ میں 126، خیبرپختونخوا میں 116، بلوچستان میں 29 اور گلگت بلتستان میں 10 واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

ایچ آر سی پی کے مطابق گزشتہ سال 3 ہزار 815 ریپ، 983 اجتماعی زیادتی، 69 زیرِ حراست جنسی تشدد اور 223 قریبی رشتوں میں جنسی زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ 

 

 

اسی عرصے میں گھریلو تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 332 افراد قتل جبکہ 2 ہزار 912 افراد تشدد کا نشانہ بنے۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کو سائبر ہراسگی کی 2 ہزار 586 شکایات موصول ہوئیں، جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔

 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل اور خواتین کے خلاف تشدد کے دیگر واقعات میں فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے اور متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔