عارف احمد
سوات کے علاقے تھانہ رحیم آباد کی حدود میں واقع ایک ہوٹل میں 17 سالہ لڑکی عائشہ کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد زہریلی دوا دے کر قتل کرنے کے الزام میں پشاور سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل، اغوا، زیادتی اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ عائشہ دختر محمد فاروق، سکنہ عثمان آباد ایبٹ آباد، گزشتہ روز صبح گھر سے نکلی تھی تاہم واپس نہ لوٹی، جس پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ بعد ازاں اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ عائشہ بے ہوشی کی حالت میں سیدو شریف اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ہے، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
مدعی شہریار ولد محمد فاروق نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے ملزمان اسفندیار ولد محمد طارق اور محمد مزمل ولد سید احمد عائشہ کو اپنے ساتھ سوات لائے، جہاں ایک ہوٹل میں اسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد زہریلی یا نشہ آور چیز کھلائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا: دو بڑے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس جاری، ہلاکتوں کی تعداد کہاں تک پہنچ گئی؟
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے مقتولہ کو زہریلی یا نشہ آور چیز دی، جس کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی۔
ترجمان سوات پولیس کے مطابق ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے فوری نوٹس پر ایس ڈی پی او سٹی بخت زادہ کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ رحیم آباد فضل رحیم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر مقتولہ کو سوات بائی پاس پر واقع ایک ہوٹل لے گئے، جہاں اسے زیادتی کے بعد زہریلی دوا دی گئی۔ دوا کے اثر سے اس کی حالت تشویشناک ہوگئی، جس پر اسے سیدو شریف اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔
واقعے کے بعد پولیس نے مذکورہ ہوٹل "سوات اِن" کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزمان کو کمرہ فراہم کرتے وقت ہوٹل انتظامیہ نے شناختی دستاویزات، اندراج اور دیگر قانونی تقاضوں پر عمل کیوں نہیں کیا۔
دوسری جانب واقعے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
