خیبر پختونخوا اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کے سکیورٹی گارڈ عارف خٹک کے ایوان میں داخل ہو کر نعرے لگانے کے معاملے پر اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے ایوان سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔

 

اسمبلی اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے بجٹ پر بحث سے قبل معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی تاریخ میں اس نوعیت کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیلریوں سے نعرے بازی کا سلسلہ اگرچہ 2013 سے جاری ہے، تاہم گزشتہ اجلاس میں ایوان کے تقدس کو سنگین نقصان پہنچا۔

 

 انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اپنے ذاتی سکیورٹی گارڈ کو ایوان میں بلا کر سیاسی نعرے لگوانا اسمبلی کے استحقاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: شدید گرمی کے باعث فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ایوان کی حفاظت اور وقار برقرار رکھنا اسپیکر کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن اس واقعے میں ایوان کے قواعد کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر رکن اپنے سکیورٹی اہلکار کو ایوان میں بلا کر نعرے لگوائے تو پارلیمانی نظم کیسے برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اہلکار کا مستقبل بھی متاثر ہوا ہے، اس لیے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے۔

 

اس پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن کی نشاندہی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے عملے نے متعلقہ شخص کو روکنے کی کوشش کی، تاہم وہ خود اسے ایوان میں لانے کی اجازت دینے پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔

 

اسپیکر نے ایوان سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اچھے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے آئندہ کارروائی ایوان کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل میں گیلریوں میں صرف متعلقہ افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی تقریر کے دوران سکیورٹی گارڈ عارف خٹک کو ایوان میں بلا کر ان کی خدمات کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے مؤثر سکیورٹی فراہم کرکے عمران خان کی جان بچائی۔

 

 اس موقع پر عارف خٹک نے ایوان میں "عمران خان زندہ باد" کے نعرے لگائے تھے، جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے واقعے کو اسمبلی قواعد اور پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ یہ معاملہ بعد ازاں قومی اور سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔