خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی اینڈ ڈی اور محکمہ خزانہ کے مشیر مزمل اسلم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا ریونیو ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھا کر 182 ارب روپے تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "جوندون کارڈ" خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ثابت ہوگا، جبکہ "انصاف بزرگ کارڈ" کے تحت بزرگ شہری بی آر ٹی میں مفت سفر کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوات ایکسپریس وے، کمراٹ روڈ، قبائلی اضلاع کی ترقی، جنوبی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں اور پانی کے مسائل کے حل کے لیے بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق فنڈز فراہم نہ کرے تو لفٹ کنال سمیت دیگر اہم منصوبے بھی صوبہ اپنے وسائل سے مکمل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان: نامعلوم مسلح افراد نے ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار اغوا کر لیے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے لیے بجٹ میں بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز میں کٹوتی کرتے ہوئے انہیں 27 ارب روپے تک محدود کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی جبکہ جنوبی اضلاع کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کے لیے بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں خصوصی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں اس کا آئینی اور قانونی حصہ نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا ہے اور اگر وفاق امتیازی رویہ ترک کر دے تو صوبہ مزید ترقی کر سکتا ہے۔
خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے ملکی معاشی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آبادی کی شرح نمو 2.2 فیصد جبکہ جی ڈی پی گروتھ صرف 3 فیصد ہے، ایسی صورتحال میں بے روزگاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کے پاس محاصل بڑھانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ کوئی واضح حکمت عملی نہیں، جبکہ تجارتی خسارہ 36 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے بھی کوئی مؤثر منصوبہ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک کی شرح نمو 6 فیصد تھی، تاہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی میں اضافے کی ایک وجہ غلط پالیسیاں ہیں جبکہ ڈالر کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی منظوری پر زیادہ خوشی اس لیے نہیں منائی گئی کیونکہ یہ خوشی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے محفوظ رکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جھکانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
