خیبر پختونخوا میں سرکاری اسکولوں کی جاری داخلہ مہم کے دوران متعدد اضلاع میں داخلوں کی شرح توقعات سے کم رہی ہے۔ والدین، اساتذہ اور مقامی افراد اس کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں۔

 

ایک طرف محکمہ تعلیم کا مؤقف ہے کہ داخلہ مہم ابھی جاری ہے اور اسے ناکام قرار دینا قبل از وقت ہوگا، جبکہ دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ سیمسٹر سسٹم، مفت نصابی کتب کی عدم دستیابی، وظیفے کی بندش اور تعلیمی کیلنڈر میں ردوبدل نے انہیں سرکاری اسکولوں سے دور کر دیا ہے۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سرکاری اسکولوں میں نئے داخلوں کا ہدف 11 لاکھ 61 ہزار 203 مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف 4 لاکھ 22 ہزار 899 بچے داخل ہو سکے ہیں، جو مقررہ ہدف کا 36 فیصد بنتا ہے۔

 

 

اس کے مقابلے میں نجی اسکولوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ نجی اسکولوں میں نئے داخلوں کا ہدف 3 لاکھ 98 ہزار 587 مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک 4 لاکھ 21 ہزار 999 نئے داخلے ہو چکے ہیں، یوں نجی اسکول مقررہ ہدف سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔

 

داخلہ مہم ابھی جاری ہے، اسے ناکام کہنا قبل از وقت ہے

 

داخلہ مہم کے حوالے سے پشاور کے ایک گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کی استانی شگفتہ نے بتایا کہ مہم کو اس مرحلے پر ناکام قرار دینا درست نہیں، کیونکہ سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک داخلوں کا سلسلہ پورا سال جاری رہتا ہے۔

 

ان کے مطابق مئی میں امتحانات اور نتائج مکمل ہونے کے بعد جون بھر تدریسی عملہ اسکولوں میں موجود رہا۔ اس دوران اساتذہ نے گھر گھر جا کر والدین سے رابطے کیے، نئے طلبہ کے داخلے کیے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو سرکاری اسکولوں میں لانے کی کوشش کی۔

 

 

ان کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم نے بھی داخلہ مہم کو مؤثر بنانے کے لیے نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے۔ اساتذہ کو اسکول کے اوقات کار کے بعد بھی کمیونٹی میں جا کر والدین سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ کلسٹر مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے داخلوں کی پیش رفت اور اساتذہ کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

سیمسٹر سسٹم سے سرکاری اسکولوں میں داخلے متاثر

 

تاہم چند اساتذہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ گزشتہ سال متعارف کرایا گیا سیمسٹر سسٹم رواں سال داخلوں میں کمی کی ایک اہم وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔

 

اس نظام کے تحت سرکاری اسکولوں کا تعلیمی سیشن نجی اسکولوں کے مقابلے میں کئی ماہ بعد شروع ہوا، جبکہ نجی اسکولوں میں امتحانات فروری کے آخر یا مارچ کے آغاز میں مکمل ہونے کے بعد نیا سیشن بھی شروع ہو گیا تھا۔

 

گزشتہ سال محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں دو سمسٹرز پر مشتمل نیا تعلیمی نظام متعارف کرایا گیا۔ پہلے سمسٹر کا دورانیہ ستمبر سے 31 دسمبر تک، جبکہ دوسرے سمسٹر کا آغاز جنوری سے ہوتا ہے اور یہ 31 مئی تک جاری رہتا ہے۔

 

 

والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تین سے چھ ماہ تک گھر بٹھانے کا خطرہ نہیں لے سکتے تھے، اس لیے انہوں نے بچوں کا داخلہ نجی اسکولوں میں ہی برقرار رکھا۔

 

سرکاری اور نجی اسکولوں کے تعلیمی سال میں فرق

 

پشاور کی رہائشی تسنیم، جن کی تین بیٹیاں سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہیں، بتاتی ہیں کہ مئی میں امتحانات کے بعد وہ عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے آبائی گاؤں دیر چلی گئی تھیں۔

 

 گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث وہ اب تک واپس نہیں آ سکیں، جس کی وجہ سے ان کی بیٹیوں کا نئے تعلیمی سال میں داخلہ بھی مؤخر ہو گیا۔ان کے مطابق اگر سرکاری اور نجی اسکولوں کے تعلیمی کیلنڈر میں ہم آہنگی ہوتی تو شاید داخلے میں یہ تاخیر نہ ہوتی۔

 

اسی طرح کوثر، جو اپنی بیٹی کو نجی اسکول سے سرکاری اسکول منتقل کرنا چاہتی تھیں، بتاتی ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ سرکاری اسکولوں میں نیا تعلیمی سیشن نجی اداروں کے مقابلے میں کافی دیر سے شروع ہوگا تو انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔

 

 

ان کے بقول، ’’میں اپنی بیٹی کا کئی ماہ کا تعلیمی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے مجبوری کے باوجود اسے دوبارہ نجی اسکول میں داخل کرا دیا۔‘‘

 

مفت کتابیں نہ ملنے سے بھی داخلوں میں کمی

 

دوسری جانب متعدد والدین نے مفت نصابی کتب کی عدم دستیابی کو بھی داخلوں میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سے تین برسوں سے مکمل کتابی سیٹ فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ جو کتابیں ملتی ہیں وہ بھی اکثر پرانی، خستہ حال اور نامکمل ہوتی ہیں، جس سے بچوں کی پڑھائی شدید متاثر ہوتی ہے۔

 

والدین کے مطابق بازار میں بھی نئی نصابی کتابیں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے وہ مجبوراً اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کراتے ہیں، جہاں کتابیں اور تعلیمی سرگرمیاں بروقت دستیاب ہوتی ہیں۔

 

کتابیں اور وظائف نہ ملنے سے غریب خاندان متاثر

 

پشاور کے علاقے ناگمان کے رہائشی امجد کے مطابق ان کے گاؤں کے سرکاری اسکول میں ہر سال طالبات کی اچھی خاصی تعداد داخلہ لیتی تھی، مگر اس سال داخلوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

 

 

ان کے بقول، اس کی سب سے بڑی وجہ مفت درسی کتابوں کی عدم فراہمی ہے۔ کئی والدین نے اپنی بچیوں کو دوسرے دیہات کے اسکولوں میں داخل کرا دیا، جبکہ متعدد بچیاں مالی مشکلات کے باعث گھر بیٹھ گئیں۔ان کا کہنا ہے کہ طالبات کے لیے وظیفے کی بندش نے بھی غریب خاندانوں کے لیے سرکاری اسکولوں کی کشش کم کر دی ہے۔

 

یوں سرکاری اسکولوں میں داخلوں کے موجودہ اعداد و شمار ایک طرف داخلہ مہم کی رفتار پر سوال اٹھا رہے ہیں، تو دوسری جانب والدین اور اساتذہ کی جانب سے سامنے آنے والی وجوہات تعلیمی کیلنڈر، نصابی کتب اور مالی معاونت جیسے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

 

 محکمہ تعلیم کے مطابق داخلہ مہم ابھی جاری ہے، اس لیے حتمی صورتحال مہم مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔