شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو انسانیت کے خلاف جرائم، پیشگی منصوبہ بندی اور جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔
خبر ایجنسی کے مطابق عدالت نے بشار الاسد کے کزن اور سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت عاطف نجیب عدالت میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں سستے آٹے کی دستیابی کے لیے فلور ملز کو گندم کی فراہمی جاری
عاطف نجیب 2011 میں شام کے صوبے دارا میں سیاسی سکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے اور شامی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان پر دارا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے کا الزام تھا، جس کے بعد شام میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔
واضح رہے کہ 8 دسمبر 2024 کو شامی باغیوں نے دمشق پر قبضہ کرکے بشار الاسد کی حکومت ختم کردی تھی۔ حکومت کے خاتمے کے بعد بشار الاسد روس فرار ہوگئے، جبکہ ان کے کزن عاطف نجیب کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
شام میں اسد خاندان نے کئی دہائیوں تک حکومت کی۔ حافظ الاسد 1971 سے 2000 تک شام کے صدر رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے بشار الاسد نے جولائی 2000 میں اقتدار سنبھالا اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے تک صدر رہے۔
