وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ طے کرنا ہے کہ کون سی حکومت قانونی تھی اور کون سی غیر قانونی، تو 2018 سے تحقیقات شروع کر لیتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات سے تحقیقات کا آغاز کیا جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ جائیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر 2024 کے انتخابات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو پھر 2018 کے انتخابات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ریکارڈ کمی، فی تولہ نئی قیمت کتنی ہوگئی؟
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جو لوگ موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، وہ یہ بھی بتائیں کہ کیا 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نہیں لگے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 2018 کی حکومت کو قانونی تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر موجودہ حکومت کو بھی قانونی ماننا ہوگا۔
