پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں 15 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی جانب سے بلیک میل کرنے کے لیے واقعے کی ویڈیو بنانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

 

 پولیس نے ریپ اور چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: کیا دھمکیاں، گرفتاریاں اور مقدمات خیبرپختونخوا میں صحافت کے لیے نئی رکاوٹ بن رہے ہیں؟

 

تھانہ بڈھ بیر پولیس کو شہاب خیل کے رہائشی نے رپورٹ درج کرائی کہ ان کی بیٹی مدرسے کی طالبہ ہے اور معمول کے مطابق مدرسے جا رہی تھی۔ راستے میں نامزد ملزم عاطف نے کپڑے لے جانے کے بہانے لڑکی کو اپنے گھر بلایا، جہاں عاطف اور وہاں پہلے سے موجود اس کے دیگر دو ساتھیوں، احمد اور اقداری عرف شریفے نے مل کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں بلیک میل کرنے کی غرض سے ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔

 

پولیس رپورٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرنے میں تاخیر علاقائی عمائدین کی وجہ سے ہوئی، جو فریقین کے مابین راضی نامہ کرانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ تاہم، پولیس نے مقدمہ درج کر کے تینوں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔