اول شیر خان کو ایک خبر نشر کرنے پر پہلے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور بعد ازاں انہیں مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ وہ ضلع خیبر کے جمرود پریس کلب کے سابق صدر اور روزنامہ آئین کے نمائندے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے جمرود تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے اہلکاروں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

 

اسی طرح مقامی دو فریقین کے درمیان ہونے والے ایک جرگے سے متعلق خبر نشر کرنے پر پولیس نے جنوری 2025 میں ان کے خلاف روزنامچہ درج کیا۔ اول شیر خان کے مطابق پولیس نے انہیں گرفتار کرنے اور جسمانی تشدد کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ اس وقت ایک غلط فہمی پیدا ہوئی تھی، جسے بعد ازاں افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر لیا گیا۔

 

خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں سمیت قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے دوران نہ صرف مختلف قسم کے خطرات کا سامنا رہتا ہے بلکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے کام کو محدود کرنے کے لیے مختلف قوانین کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال نے مفت گردہ ٹرانسپلانٹ سروس کا آغاز کر دیا

 

اسلام گل آفریدی گزشتہ بیس برسوں سے بی بی سی سمیت مختلف نشریاتی اداروں کے لیے خیبر پختونخوا میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں بھی کئی مرتبہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک مرتبہ بغیر کسی جرم کے گرفتار بھی کیا گیا۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کے انضمام سے قبل فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت میڈیا پر عائد پابندیوں اور گزشتہ دو دہائیوں سے جاری بدامنی اور دہشت گردی کے باعث ان علاقوں کے صحافیوں کو ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکلات اور پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

 

 

ان کے مطابق علاقائی روایات، ریاستی سطح پر عائد پابندیاں اور مسلح گروہوں کا دباؤ ایسے عوامل ہیں جو صحافیوں کے کام کو محدود کر دیتے ہیں۔

 

اول شیر خان کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ حالات میں صحافیوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مقدمات میں عدالتوں کے چکر، دہشت گردوں اور نامعلوم افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث صحافی اکثر حساس خبریں نشر نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حیدر علی، جو نجی نشریاتی ادارے 24 نیوز سے وابستہ ہیں، کے خلاف مارچ 2025 میں پولیس نے توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

 

حیدر علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کی مبینہ کرپشن سے متعلق خبر نشر کی تھی۔ ان کے بقول اس خبر کے ردعمل میں ایک سال قبل کرسمس ڈے کی تقریب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک سکول کے پرنسپل کے خلاف کی گئی پوسٹوں کو بنیاد بنا کر پرنسپل کی درخواست پر ان کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا۔

 

ان کے مطابق مقدمے کے اندراج کے بعد نہ صرف انہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا۔ حیدر علی کہتے ہیں کہ اس جھوٹے مقدمے کے باعث ان کے پورے خاندان کو شدید ذہنی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مقامی لوگوں نے ان کے حق میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

 

 

ان کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے باعث انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایک عرصے تک صحافت سے کنارہ کش رہے۔حیدر علی کے مطابق ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے مختلف مشورے دیے تھے، جن پر عمل کرنے کے بعد اب وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

 

خیبر پختونخوا: صحافیوں کے لیے ایک خطرناک صوبہ

 

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری ارشاد میدانی کے مطابق خیبر پختونخوا میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی معراج خالد کے گھر کو نومبر 2025 میں نامعلوم افراد نے نذرِ آتش کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ درجنوں صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو مختلف نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

 

پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے دھمکیوں، حملوں، گرفتاریوں، سنسرشپ اور قانونی پابندیوں کے باعث ایک خطرناک صوبہ بن چکا ہے۔

 

 فریڈم نیٹ ورک کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں پانچ صحافی قتل کیے گئے، جن میں سے دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا، جبکہ کم از کم 83 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہا۔

 

صحافیوں کو درپیش مسائل کی وجوہات

 

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے روزنامہ آئین کے رپورٹر نسیم شاکر کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس سمیت مختلف سرکاری اداروں کے عہدیداروں کی جانب سے دھمکیوں، مقدمات میں پھنسانے اور گرفتار کرنے کی وارننگز ملتی رہی ہیں۔

 

ان کے مطابق قبائلی اضلاع کے انضمام سے قبل پولیٹیکل انتظامیہ نے بھی کئی مرتبہ انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ تعلیم میں ڈیوٹی سے غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف ایک خبر شائع کی تھی، جس پر محکمہ تعلیم سے وابستہ بعض بااثر افراد نے انہیں دھمکیاں دیں، جبکہ ان کے بھائی کو محکمہ تعلیم کی ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا۔

 

 

نسیم شاکر کے مطابق قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد اگرچہ پولیٹیکل انتظامیہ کا جبر ختم ہوا، تاہم نئے قوانین اور علاقے میں سرگرم مسلح گروہوں کے دباؤ کے باعث صحافیوں کو کئی معاملات میں خود ہی احتیاط برتنی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا،“ہم کئی بار مکمل تحقیق اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد خبر تیار کرتے ہیں، لیکن سرکاری اداروں اور مسلح گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے بعض خبریں نشر نہیں کر پاتے۔”

 

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے مطابق 2024 سے اب تک خیبر پختونخوا میں 22 صحافیوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں تین مقدمات پیکا ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔

 

جنوری 2025 میں قومی اسمبلی نے پیکا ایکٹ کے ترمیمی بل کی منظوری دی۔ حکومت کے مطابق اس قانون کا مقصد جھوٹی خبروں کی روک تھام اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔

 

 اس قانون کے تحت نئی ریگولیٹری اتھارٹی، ٹریبونل اور تحقیقاتی ایجنسی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ۔تاہم اس قانون کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں، ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج اور تنقید کی۔

 

قانون کے مطابق ایسا مواد جو غلط معلومات پر مبنی ہو، نظریہ پاکستان کے خلاف ہو، لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکساتا ہو یا عوام، سرکاری افسران اور اداروں میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنتا ہو، غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح نفرت انگیز، توہین آمیز، فرقہ وارانہ یا فحش مواد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

 

اس قانون کے تحت اراکینِ پارلیمان، عدلیہ اور مسلح افواج کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والے مواد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں اور نمائندوں کے بیانات یا پابندی کا شکار افراد و اداروں سے متعلق مواد بھی سوشل میڈیا پر نشر نہیں کیا جا سکے گا۔

 

پیکا ایکٹ پر تحفظات

 

خیبر پختونخوا کے صحافیوں کو پہلے ہی دہشت گردی، سکیورٹی خدشات اور دیگر مقامی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ وفاقی سطح پر ہونے والی قانون سازی بھی ان کے پیشہ ورانہ ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 

 

خیبر یونین آف جرنلسٹس پشاور کے صدر کاشف الدین کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد صحافیوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کو جھوٹی خبروں کی روک تھام کے بجائے صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

کاشف الدین کے مطابق صحافتی تنظیموں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ قانون میں “غلط خبر” کی واضح تعریف موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی اصطلاح یا معیار کی وضاحت ہی نہ ہو تو اس قانون کا استعمال کسی بھی خبر یا صحافی کے خلاف کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد صحافیوں کے خلاف غیر ضروری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے بھی بعض صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق صحافتی تنظیموں کا مؤقف تھا کہ ایسے قوانین کی تیاری سے قبل صحافی برادری اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔

 

قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اقبال حسین اقبال، جو پشتو ٹیلی ویژن چینل خیبر نیوز سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبائی جاتی تھی، جبکہ اب پیکا ایکٹ کے ذریعے صحافیوں اور عام شہریوں کو دباؤ کا سامنا ہے۔

 

ان کے مطابق یہ صورتحال انسانی حقوق اور آزادیِ صحافت کے اصولوں سے متصادم ہے اور اس قانون کے تحت کسی بھی صحافی کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

 

فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) 1901 ایک ایسا قانون تھا جس کے تحت قبائلی علاقوں میں عدالتی، قانونی اور انتظامی اختیارات ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس ہوتے تھے۔ اس قانون کے تحت اظہارِ رائے اور بنیادی شہری آزادیوں پر مختلف پابندیاں عائد تھیں۔ تاہم 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا اور ان علاقوں تک پاکستان کے آئین اور عدالتی نظام کی توسیع کی گئی۔

 

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون ایڈووکیٹ بشیر وزیر، جو پشاور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے اور تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ آزادیِ اظہار نہ صرف آئینِ پاکستان میں تسلیم شدہ حق ہے بلکہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے تحت بھی اس کا پابند ہے۔ تاہم ان کے مطابق عملی طور پر آزادیِ اظہار کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

 

حیدر علی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا جعلی اکاؤنٹس اور غلط معلومات سے بھرا ہوا ہے، لیکن ان عناصر کے خلاف قانون کا استعمال کم نظر آتا ہے، جبکہ معروف صحافیوں کے خلاف باآسانی مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قانون کا استعمال بعض اوقات صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقصد غلط معلومات کی روک تھام ہے تو اس کے لیے دیگر مؤثر طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے تھے، تاہم ایسا قانون متعارف کرایا گیا جس پر آزادیِ اظہار کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

 

صحافیوں میں بڑھتی ہوئی سیلف سنسرشپ

 

اسلام گل آفریدی کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ اور دیگر خطرات کے باعث قبائلی اضلاع کے بہت سے صحافیوں نے خود ساختہ احتیاط اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں بعض اہم خبریں منظرِ عام پر نہیں آ پاتیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے ساتھ صحافیوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے میڈیا ورکرز کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد ضروری ہے۔

 

 

ضلع سوات کے حیدر علی، ضلع خیبر کے اول شیر خان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے تجربات، صحافتی تنظیموں کے اعداد و شمار، قانونی ماہرین کی آراء اور آزادیِ اظہار سے متعلق خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے، خصوصاً قبائلی اضلاع، میں صحافت کو ایک پیچیدہ ماحول کا سامنا ہے۔

 

ایک جانب ریاستی ادارے غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین کو ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ان قوانین کے ممکنہ غلط استعمال، مقدمات، دھمکیوں اور بڑھتی ہوئی خود ساختہ سنسرشپ پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

 

خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو صرف قانونی چیلنجز ہی نہیں بلکہ سکیورٹی خدشات، سماجی دباؤ اور مسلح گروہوں کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔

 

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری ارشاد میدانی کے مطابق غلط معلومات کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آئینی حقِ آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے، تاکہ صحافی بلا خوف و خطر عوام تک معلومات پہنچا سکیں اور ریاستی و عوامی مفادات بھی یکساں طور پر محفوظ رہیں۔