موجودہ مالی پالیسیاں ملک اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔
سکندر حیات خان شیرپاؤ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 80 فیصد سے زائد وسائل مرکز سے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کے مالیاتی انتظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی بجٹ کا حجم 18 ٹریلین روپے ہے، جس کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے گا۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ترقیاتی بجٹ صرف ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 4 فیصد شرح نمو اور 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: مبینہ گھریلو تشدد کا شکار فرانسیسی خاتون بچوں سمیت بازیاب، تحقیقات جاری
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں کاروباری شعبہ، سرمایہ کار اور عوام مزید ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ہی ریونیو اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
قومی وطن پارٹی کے رہنما نے زرعی شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان اپنی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں کر پا رہے اور حکومت نے زراعت کے شعبے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100 ارب ڈالر برآمدات کے ہدف پر سوالات اٹھتے ہیں، کیونکہ سستی بجلی اور کم قیمت خام مال کے بغیر پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ساختی اصلاحات صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ عملی طور پر ان کے اثرات نظر نہیں آتے اور بعض مافیاز کے مفادات کے تحت پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
سکندر شیرپاؤ نے خیبر پختونخوا کے بجٹ کو ’’خسارے اور وژن سے عاری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں 151 ارب روپے خسارہ ہے، جبکہ وفاقی قابلِ تقسیم پول سے صوبے کو 90 ارب روپے کم ملنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر وصولیوں میں کمی کے باعث مجموعی طور پر صوبے کو تقریباً 80 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ صوبائی محصولات کے اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت کو 200 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ترقیاتی بجٹ سے ترقیاتی عمل کو فروغ نہیں ملے گا، بلکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مزید دباؤ پڑے گا۔
سکندر شیرپاؤ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی سابقہ حیثیت کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی صوبے کی پیداوار ہیں، اس لیے خیبر پختونخوا کو اپنے وسائل میں مکمل حصہ ملنا چاہیے۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے، حکومتی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے، اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ صوبے کے وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائے۔
سکندر حیات خان شیرپاؤ نے انسانی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
