خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں مختلف کاروباری شعبوں، تجارتی سرگرمیوں، پیشہ ورانہ خدمات اور صنعتی اداروں کے لیے سالانہ فکس ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کر دی ہیں۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا اور صوبائی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
جاری کردہ فہرست کے مطابق مختلف کاروباری شعبوں کے لیے الگ الگ سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور سی این جی فلنگ اسٹیشنز پر 35 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ ایجنسیوں، کار ڈیلرز، ویڈیو شاپس اور نیٹ کیفے کے لیے 10 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
آزادانہ آڈٹ پریکٹس کرنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ وہیکل سروس اسٹیشنز کے لیے یہ شرح 10 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹرز اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر صوبائی ہیڈکوارٹرز کی حدود میں 15 ہزار روپے اور دیگر علاقوں میں 10 ہزار روپے سالانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بجٹ اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت سے کون سے سخت سوالات پوچھ لیے؟
اسٹاک ایکسچینج کے ممبران پر 60 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ منی چینجرز کے لیے سب سے زیادہ شرح مقرر کی گئی ہے۔ صوبائی ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والے منی چینجرز کو ایک لاکھ روپے اور دیگر علاقوں میں 50 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
جم اور ہیلتھ فٹنس سینٹرز پر بالترتیب 10 ہزار اور 5 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ جیولرز کے لیے بھی منی چینجرز کے مساوی شرح رکھی گئی ہے، جس کے تحت صوبائی ہیڈکوارٹرز میں قائم جیولری کاروباروں پر ایک لاکھ روپے جبکہ دیگر علاقوں میں 50 ہزار روپے سالانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔
ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور بڑے مارٹس پر ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ جنرل اور گروسری اسٹورز کے لیے یہ شرح 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ الیکٹرانکس گڈز اسٹورز پر 25 ہزار روپے، کیبل آپریٹرز اور پرنٹنگ پریس پر 10 ہزار روپے جبکہ پیسٹی سائیڈ ڈیلرز پر 6 ہزار روپے سالانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
تمباکو ڈیلرز اور ایکسپورٹرز کو 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ ہول سیل ڈیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسی ہولڈرز کے لیے 35 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ کیمسٹس، ڈرگسٹ اور میڈیکل اسٹورز پر 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
صرف شلوار قمیض کی سلائی کرنے والی دکانوں کے لیے 5 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شلوار قمیض، واسکٹ اور پینٹ شرٹ کی سلائی کرنے والے ٹیلرز پر 15 ہزار روپے سالانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔
صنعتی شعبے میں فلور ملز پر 40 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اینٹوں، شٹرنگ، ریت کے ڈپو اور تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے کاروباروں پر 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
فرنیچر شو رومز اور ورکشاپس کے لیے ملازمین کی تعداد کے مطابق ٹیکس کی شرح مقرر کی گئی ہے۔ 10 ملازمین تک کے اداروں پر 15 ہزار روپے جبکہ 10 سے زائد ملازمین رکھنے والے اداروں پر 30 ہزار روپے سالانہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
شہد کی دکانوں، ہول سیلرز اور ایکسپورٹرز پر 10 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ بیوٹی پارلرز کے لیے 15 ہزار روپے جبکہ ایستھیٹک کلینکس کے لیے 40 ہزار روپے سالانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
مٹھائی اور بیکنگ کے کاروبار میں 5 ملازمین تک کے اداروں پر 10 ہزار روپے اور 5 سے زائد ملازمین رکھنے والے اداروں پر 15 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اسی طرح ماربل اور اس سے وابستہ معاون فیکٹریوں پر 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
