خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور مالی ترجیحات پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناانصافی مسائل کی بنیادی وجہ ہے اور جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا۔

 

اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوامی مفاد کے لیے مؤثر قانون سازی نہیں کی گئی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو دیگر قیدیوں کو حاصل ہیں، تاہم انہیں علاج کی مناسب سہولت تک میسر نہیں۔

 

انہوں نے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تھرو فارورڈ پالیسی کے باعث متعدد منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف تخمینے لگانا کافی نہیں، عوام کو سہولیات فراہم کرنا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 200 ارب روپے کے منصوبے کے لیے صرف 4 ارب روپے مختص کرنا کس قسم کی منصوبہ بندی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں:21 جون کو سال کا سب سے بڑا دن کیوں کہا جاتا ہے؟

 

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اب تک اپنے آئینی اور مالی حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) اور این ایف سی ایوارڈ میں اس کا جائز حصہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں لیکن ان کے حصے کے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے۔

 

علی امین گنڈاپور نے اعتراف کیا کہ گزشتہ سال بعض ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے ان کی پالیسی درست نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حلقوں میں فنڈز کی تقسیم سے متعلق ان سے غلطیاں ہوئیں اور وہ انہیں تسلیم کرتے ہیں۔

 

انہوں نے بجٹ میں تعلیم اور آئی ٹی کے لیے مختص فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے مجموعی بجٹ کا صرف 5 فیصد رکھا گیا ہے، جو تشویشناک ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں 2 ارب روپے کے منصوبوں کے مقابلے میں صرف 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد سکیمیں مکمل ہوئے بغیر ان کی رقوم استعمال کر لی گئیں۔

 

سابق وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ قرضے صرف ایسے منصوبوں کے لیے لیے جائیں جن سے صوبے کی آمدن میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت بند کمروں میں ملاقاتیں اور نشستیں تو کر سکتی ہے لیکن عوامی مسائل پر متحد نہیں ہو پاتی۔

 

انہوں نے سیاسی انتقام کی سیاست کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کوئی جیل میں ہے تو کل کوئی اور بھی جیل جا سکتا ہے، اس لیے دشمنی کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔

 

 علی امین گنڈاپور نے حکومت پر زور دیا کہ امن و امان کے قیام کو ترجیح دی جائے کیونکہ عوام کے ٹیکسوں سے ہی حکمرانوں کو مراعات حاصل ہوتی ہیں۔