دنیا بھر میں ہر سال 21 جون کو ایک خاص دن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس دن کو سال کا سب سے بڑا دن کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا اس دن سورج بڑا ہو جاتا ہے یا زمین میں کوئی خاص تبدیلی آتی ہے؟

 

حقیقت یہ ہے کہ اس دن سورج بڑا نہیں ہوتا بلکہ دن کا دورانیہ پورے سال میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے 21 جون کو سال کا سب سے بڑا دن کہا جاتا ہے۔

 

اصل میں زمین سورج کے گرد مسلسل گردش کرتی ہے اور ساتھ ہی اپنے محور پر بھی گھومتی رہتی ہے۔ زمین کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بالکل سیدھی نہیں بلکہ اپنے محور پر کچھ جھکی ہوئی ہے۔ زمین کا یہی جھکاؤ دن، رات اور موسموں میں تبدیلی کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: مون سون سیلابی خطرات، خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع میں 40 واٹر ریسکیو پوائنٹس قائم

 

جب زمین سورج کے گرد اپنے سفر میں مختلف مقامات سے گزرتی ہے تو سال کے ایک حصے میں اس کا شمالی نصف کرہ سورج کی طرف زیادہ جھک جاتا ہے۔ جون کے مہینے میں یہی صورتحال  پیدا ہوتی ہے۔

 

 21 جون کے قریب زمین کا شمالی حصہ سورج کی جانب سب سے زیادہ جھکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کی روشنی اس حصے پر زیادہ دیر تک پڑتی رہتی ہے۔

 

پاکستان بھی زمین کے اسی شمالی حصے میں واقع ہے، اس لیے یہاں 21 جون کو دن کا دورانیہ پورے سال میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس دن سورج نسبتاً جلد طلوع ہوتا ہے اور شام کو معمول سے دیر سے غروب ہوتا ہے۔ یوں ہمیں سورج کی روشنی زیادہ وقت تک میسر آتی ہے اور دن لمبا ہو جاتا ہے۔

 

 

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ 21 جون کو سورج کا سائز بڑا نہیں ہو جاتا۔ سورج ویسا ہی رہتا ہے جیسا وہ سال کے دوسرے دنوں میں ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ زمین کی حرکت اور اس کے جھکاؤ کی وجہ سے سورج زیادہ دیر تک آسمان پر نظر آتا ہے۔

 

21 جون کے بعد دن آہستہ آہستہ چھوٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہ تبدیلی بہت معمولی ہوتی ہے، اس لیے ہمیں فوراً محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، سورج نسبتاً جلد غروب ہونے لگتا ہے اور رات کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے۔

 

کافی دلچسپ بات ہے نا؟ شاید اسی لیے آج میں اس موضوع پر بلاگ لکھ رہی ہوں

یعنی 21 جون کے بعد دن مزید بڑے نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ چھوٹے ہونے لگتے ہیں۔ یہ تبدیلی کئی مہینوں تک جاری رہتی ہے۔ پھر سردیوں کا موسم آتا ہے، جب راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح قدرت کا یہ نظام مسلسل جاری رہتا ہے۔

 

سائنس کے مطابق 21 جون کو سال کا سب سے بڑا دن کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔

سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اس دن سورج سب سے زیادہ دیر تک نظر آتا ہے۔ صبح سے شام تک کا دورانیہ پورے سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

 

 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس دن سورج کی روشنی زمین کے شمالی حصے پر زیادہ وقت تک پڑتی ہے۔ زیادہ دیر تک روشنی ملنے کی وجہ سے دن کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور دن لمبا محسوس ہوتا ہے۔

 

تیسری وجہ زمین کا جھکاؤ ہے۔ زمین کا یہی جھکاؤ سورج کی روشنی کے دورانیے کو تبدیل کرتا ہے۔ اگر زمین اپنے محور پر جھکی ہوئی نہ ہوتی تو دن اور رات کے اوقات میں اتنا نمایاں فرق پیدا نہ ہوتا۔

 

چوتھی وجہ یہ ہے کہ 21 جون کے بعد موسموں میں تبدیلی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ گرمی کا موسم جاری رہتا ہے، لیکن اسی دن کے بعد دنوں کے مختصر ہونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو بالآخر سردیوں کی آمد کی طرف لے جاتا ہے۔

آئیے اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا پوری دنیا میں 21 جون ہی سب سے بڑا دن ہوتا ہے؟اس کا جواب ہے: نہیں۔

 

پوری دنیا میں 21 جون سب سے بڑا دن نہیں ہوتا۔ زمین کے شمالی نصف کرہ میں 21 جون سال کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے، لیکن جنوبی نصف کرہ میں صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وہاں اسی وقت دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں۔

 

مثال کے طور پر پاکستان، بھارت اور کئی دوسرے شمالی ممالک میں جون کے مہینے میں دن لمبے ہوتے ہیں، جبکہ دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں اسی دوران سردیوں کا موسم ہوتا ہے اور دن نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔

 

 

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 21 جون کو دن سب سے لمبا ضرور ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اسی دن سب سے زیادہ گرمی بھی پڑے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین، ہوا اور پانی کو سورج کی حرارت جذب کرنے اور گرم ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے بہت سے علاقوں میں شدید گرمی جولائی یا اگست میں محسوس کی جاتی ہے، حالانکہ دن کا سب سے زیادہ دورانیہ جون میں ہوتا ہے۔

 

سال میں دو ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب دن اور رات تقریباً برابر ہو جاتے ہیں۔ یہ وقت عموماً مارچ اور ستمبر کے مہینوں میں آتا ہے۔ ان دنوں کے بعد موسموں کے ساتھ ساتھ دن اور رات کے دورانیے میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔

 

اسی طرح دسمبر کے مہینے میں ایک ایسا دن آتا ہے جب رات سب سے لمبی اور دن سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کے بعد دن دوبارہ آہستہ آہستہ بڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اگلے سال جون تک جاری رہتا ہے۔

 

خلاصہ یہ ہے کہ 21 جون کو سال کا سب سے بڑا دن اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس روز سورج سب سے زیادہ وقت تک آسمان پر نظر آتا ہے اور دن کا دورانیہ پورے سال میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کا اپنے محور پر جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کی مسلسل گردش ہے۔

 

 21 جون کے بعد دن آہستہ آہستہ مختصر اور راتیں طویل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ قدرت کا ایک خوبصورت، متوازن اور حیرت انگیز نظام ہے جو ہر سال اسی ترتیب کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔