پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش کمار نے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردان میں سکھ جوڑے کے بہیمانہ قتل کے محرکات کو بے نقاب کیا جائے اور صوبے بھر میں اقلیتی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو اپنے اہلکاروں کی ذہنی حالت اور رویوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکھ برادری کی تعداد وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے، اس لیے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: اوور پاس کا سنگ بنیاد، وزیراعلیٰ نے ساتھ ہی کرپشن الزامات پر کیا چیلنج دے دیا؟

 

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی اور ڈی پی او مردان نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ گرفتار ملزم کے خلاف میرٹ پر تفتیش کی جا رہی ہے اور اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ واقعے کے تمام ممکنہ محرکات اور عوامل سامنے آ سکیں۔

 

صوبائی وزیر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اس نوعیت کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں اور حکومت شہریوں، بالخصوص اقلیتوں، کے تحفظ میں اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کو محض ایک فرد کا ذاتی عمل قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے تمام پہلوؤں کی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر جو انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں انہیں اقلیتی عبادت گاہوں سے دور رکھا جائے اور اگر کوئی شخص پولیس فورس میں رہتے ہوئے ایسے نظریات کا حامل پایا جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مقتول سکھ جوڑے کے لواحقین اور مقدمے کے اندراج میں کردار ادا کرنے والوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

وہ مردان میں اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار اور مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر سید عنایت شاہ باچا کے ہمراہ مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سے قبل   سردار رمیش کمار نے ڈی آئی جی مردان قاسم علی خان اور ڈی پی او مردان مسعود احمد سے ملاقات کی اور اس کیس کی تفتیش اور اب تک کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

 انہوں نے گوردوارہ میں سکھ برادری کی دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور مقتولین کی بیٹی سے ملاقات کرکے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

 

انہوں نے مردان کی سکھ برادری کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدید دکھ اور غم کے باوجود برادری نے احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔