ایمان ظاہر شاہ 

 

پاکستان میں کزن میرجز، یعنی قریبی رشتہ داروں خصوصاً فرسٹ کزنز کے درمیان شادی، ایک عام سماجی روایت ہے۔ ایسی شادیوں کو عموماً خاندانوں کے درمیان اعتماد، خاندانی تعلقات کے استحکام اور خاندانی نظام کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادیاں بعض موروثی بیماریوں اور صحت کے مسائل کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

 

پاکستان میں کزن میرجز کی شرح

 

مختلف قومی اور بین الاقوامی مطالعات کے مطابق پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں کزن میرج  کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) اور دیگر تحقیقی رپورٹس کے مطابق ملک میں تقریباً 60 سے 63 فیصد شادیاں قریبی رشتہ داروں کے درمیان ہوتی ہیں، جن میں اکثریت فرسٹ کزن میرجز کی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: ایم بی بی ایس و بی ڈی ایس امتحان کے لیے ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری

 

تحقیق کیا کہتی ہے؟

 

طبی ماہرین کے مطابق کزن سے شادی بعض جینیاتی بیماریوں اور پیدائشی نقائص کے بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک ہیں۔ پیدائشی نقائص سے مراد وہ جسمانی یا ذہنی مسائل ہیں جو بچے میں  پیدائش کے وقت موجود ہوں، مثلاً دل کی ساخت میں خرابی، سماعت یا بینائی کے مسائل یا جسمانی نشوونما میں غیر معمولی تبدیلیاں۔

 

 

اسی طرح بایو میڈ سینٹرل، جو طبی اور حیاتیاتی علوم سے متعلق تحقیقات شائع کرنے والا ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے، میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادیوں کا رجحان گزشتہ تین دہائیوں سے تقریباً برقرار ہے اور یہ بعض تولیدی اور صحت سے متعلق مسائل سے بھی وابستہ پایا گیا ہے۔

 

بار بار اسقاطِ حمل کا سامنا

 

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ زاہد نے ٹی این این کو بتایا کہ انہوں نے اپنی کزن سے شادی کی۔

 

“میری اہلیہ والد اور والدہ، دونوں جانب سے میری قریبی رشتہ دار ہیں۔ شادی کے بعد میری بیوی کو تین سے چار بار حمل ٹھہرا، تاہم ہر بار ابتدائی مہینوں میں اسقاطِ حمل ہو گیا۔ بعد ازاں ہماری دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ہمارے خاندان میں بواسیر، دمہ اور جوڑوں کے امراض موروثی طور پر پائے جاتے ہیں، اور افسوس کہ ہماری دونوں بیٹیاں بھی انہی صحت کے مسائل کا شکار رہیں۔”

 

موروثی بیماری کیا ہوتی ہے؟

 

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے شعبۂ اطفال کے پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ ڈاکٹر ابوبکر صادق کے مطابق موروثی بیماری وہ بیماری ہوتی ہے جو والدین سے بچوں میں جینز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں موجود جینز جسم کی ساخت، نشوونما اور مختلف جسمانی خصوصیات کے بارے میں معلومات محفوظ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات بیماریوں سے متعلق جینز بھی نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ ایسی بیماریاں جو جینز کے ذریعے والدین سے اولاد میں منتقل ہوں، موروثی بیماریاں کہلاتی ہیں۔

 

دو بیٹیاں موروثی بیماری کے باعث انتقال کر گئیں

 

کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ لیاقت خان نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کے خاندان میں کولیسٹرول سے متعلق ایک موروثی بیماری پائی جاتی ہے۔

“میں نے اپنی فرسٹ کزن، جو میری چچا زاد ہیں، سے شادی کی۔ مجھے اور میری اہلیہ دونوں کو کولیسٹرول کا مسئلہ ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ان کی چار بیٹیاں تھیں، جن میں سے دو بچپن ہی سے شدید صحت کے مسائل کا شکار رہیں۔

 

“ان دونوں بیٹیوں کے خون میں کولیسٹرول کی سطح غیر معمولی حد تک بلند تھی، جس کے باعث انہیں مسلسل طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بیٹی آٹھویں جماعت جبکہ دوسری چھٹی جماعت میں زیرِ تعلیم تھی جب وہ انہی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئیں۔”

 

لیاقت خان کے مطابق بیٹیوں کی وفات نے خاندان کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، اور بعد ازاں انہیں احساس ہوا کہ خاندان میں پائی جانے والی موروثی بیماریوں کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہی اور بروقت طبی مشاورت کتنی اہم ہے۔

 

جین کیا ہوتا ہے اور کزن میرجز میں خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے

 

ڈاکٹر ابوبکر صادق کے مطابق جین انسانی جسم کا بنیادی وراثتی جزو ہوتا ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر بچہ اپنی نصف جینیاتی معلومات ماں اور نصف باپ سے حاصل کرتا ہے۔ چونکہ فرسٹ کزنز کا جینیاتی پس منظر ایک دوسرے سے نسبتاً زیادہ ملتا جلتا ہوتا ہے، اس لیے بعض بیماریوں سے متعلق ایک جیسے جینز بچوں تک منتقل ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ فرسٹ کزنز میں چچا، ماموں، پھوپھو اور خالہ کی اولاد شامل ہوتی ہے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ بیشتر موروثی بیماریاں اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب بچے کو بیماری سے متعلق جین والدین دونوں سے ملے ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر والدین دونوں میں ایک ہی بیماری سے متعلق جین موجود ہو تو ہر حمل میں بچے کے اس بیماری کا شکار ہونے کا امکان 25 فیصد، صرف جین منتقل ہونے کا امکان 50 فیصد، جبکہ بیماری سے محفوظ رہنے کا امکان 25 فیصد ہوتا ہے۔

 

کن بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں

 

ڈاکٹر ابوبکر صادق کے مطابق کزن میرجز سے  پیدا ہونے والے بچوں میں بعض جینیاتی بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ تھیلیسیمیا ان بیماریوں میں شامل ہے۔ یہ خون کی ایک موروثی بیماری ہے جس میں جسم مناسب مقدار میں صحت مند سرخ خون کے خلیے نہیں بنا پاتا اور مریض کو بار بار خون لگوانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ  پیدائشی دل کے امراض بھی دیکھے جاتے ہیں، جن کا مطلب ہے کہ بچے کے دل کی ساخت یا کارکردگی میں مسئلہ پیدائش کے وقت ہی موجود ہو۔

ڈاکٹر ابوبکر صادق کے مطابق بعض بچوں میں ان بورن ایررز آف میٹابولزم بھی سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ موروثی بیماریوں کا ایک گروپ ہے جس میں جسم خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے یا بعض کیمیائی عمل انجام دینے میں دشواری پیش آتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مرگی، مسکیولر ڈسٹرافی اور نشوونما میں تاخیر بھی بعض کیسز میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر ابوبکر صادق کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی  پیشہ ورانہ زندگی میں متعدد ایسے بچوں کا علاج کیا ہے جو موروثی بیماریوں کا شکار تھے۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ میں نے تھیلیسیمیا میجر کے ایسے مریض دیکھے ہیں جنہیں باقاعدگی سے خون لگوانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بورن ایررز آف میٹابولزم، دوروں، پیدائشی دل کے امراض اور نشوونما میں تاخیر کے متعدد کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

 

شادی سے پہلے جینیاتی اسکریننگ کیوں ضروری ہے

 

ڈاکٹر ابوبکر صادق کے مطابق شادی سے قبل جینیاتی اسکریننگ ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر شادی سے پہلے معلوم ہو جائے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں میں کسی مخصوص بیماری سے متعلق جین موجود ہے تو انہیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے اور مناسب طبی مشورہ دیا جا سکتا ہے۔

 

ان کے مطابق جینیاتی کونسلنگ ایک طبی خدمت ہے جس میں ماہرین خاندان کی طبی تاریخ، موروثی بیماریوں کے خطرات اور آئندہ نسلوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے خاندان جن میں پہلے سے موروثی بیماریوں کی تاریخ موجود ہو، انہیں شادی سے پہلے جینیاتی اسکریننگ ضرور کروانی چاہیے۔