شدید گرمی کے موسم میں ملاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ ٹاؤن اور گردونواح کے ہزاروں مکین گزشتہ اٹھارہ روز سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومتی گریویٹی واٹر سپلائی سکیم کی مرکزی پائپ لائن ضلع سوات کے علاقے بریکوٹ میں ٹوٹنے کے باعث پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بٹ خیلہ گریویٹی واٹر سپلائی سکیم حکومت خیبر پختونخوا کا ایک اہم میگا منصوبہ ہے، جس کے تحت بجلی کے استعمال کے بغیر زمین کی قدرتی ڈھلوان (گریویٹی) کے ذریعے دریائے سوات سے بٹ خیلہ تک پانی پہنچایا جاتا ہے۔
یہ منصوبہ 2012 میں شروع کیا گیا تھا اور 2017 میں مکمل ہوا، جس پر تقریباً 78 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئی۔ اس سکیم کے تحت تقریباً 23 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے روزانہ لاکھوں گیلن پانی بٹ خیلہ اور اس کے نواحی علاقوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کا امکان، عوام کو کتنا ریلیف ملنے والا ہے
یہ سکیم خاص طور پر بٹ خیلہ اور اماندرہ کے ہزاروں افراد کو پینے کا صاف پانی فراہم کرتی ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے دونوں علاقوں کی بڑی آبادی کی روزمرہ ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق پانی کی بندش نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گھریلو ضروریات پوری کرنا دشوار ہو گیا ہے جبکہ پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے انہیں دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق پہاڑی علاقوں میں پانی کے کنویں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث بہت کم گھروں میں موجود کنوؤں سے بھی دیگر لوگ پانی لینے پر مجبور ہیں، اور جن گھروں میں کنویں ہیں وہ بھی مایوس ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں کنوؤں میں پانی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔

مقامی رہائشی جواد حسین نے ٹی این این کو بتایا کہ شدید گرمی میں پانی کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے بقول، “گھروں میں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں۔ خواتین اور بچے پانی لانے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ جلد از جلد مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔”
پانی کی مسلسل بندش کے باعث بٹ خیلہ کے متعدد شہری نجی واٹر ٹینکروں سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک واٹر ٹینکر کا کرایہ 3,000 سے 5,000 روپے تک وصول کیا جا رہا ہے، جو عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پہاڑی علاقوں میں سڑک نہ ہونے کے باعث پانی گدھوں کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں فی چکر 500 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت نے ان کے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک اور شہری کریم خان نے بتایا کہ نجی واٹر ٹینکروں سے پانی خریدنا ہر خاندان کی استطاعت میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل اٹھارہ دن سے پانی بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے انجنئیر شہزاد خان نے بتایا کہ بریکوٹ میں ٹوٹی ہوئی مرکزی پائپ لائن کی بحالی کے لیے عملہ دن رات کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پائپ لائن کو ویلڈنگ کے ذریعے دوبارہ جوڑنے کی کوشش جاری ہے اور امید ہے کہ مرمتی کام مکمل ہوتے ہی پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اس اہم منصوبے کی مستقل دیکھ بھال کا مؤثر نظام بھی وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی طویل بندش سے عوام کو دوبارہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
