پشاور میں خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا گیا جس کا مجموعی خسارہ 48 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لیے 1645 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

 

ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 35 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جبکہ کم سے کم ماہانہ اجرت 5 ہزار روپے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 

امن و امان کی صورتحال کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: ملاکنڈ: بٹ خیلہ میں گریویٹی واٹر سکیم سے پانی کی سپلائی بند، شہری کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں

 

عوامی فلاحی پروگراموں میں احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے اور صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز شامل ہے۔ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے جبکہ صحت کے مجموعی شعبے کے لیے 334 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے، بی آر ٹی پشاور کے لیے ساڑھے 7 ارب روپے اور خوشحال ہزار پروگرام کے لیے 4 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین روپے، احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بلا سود قرضوں کی مد میں 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 

الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

 

تعلیم کے لیے 468 ارب روپے، بلدیات کے لیے 90 ارب روپے، داخلہ کے لیے 29 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے، زراعت کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے لیے 42 ارب روپے اور زکوات کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔