ہمارے معاشرے میں دینی مدارس ایک اہم اور قابلِ احترام ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدیوں سے یہ ادارے دینِ اسلام کی تعلیم، قرآن و حدیث کی حفاظت اور اخلاقی تربیت میں نمایاں کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔
ہر سال ہزاروں علماء، اساتذہ اور دینی رہنما انہی مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر معاشرے کی خدمت کرتے ہیں۔ والدین بھی اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ مدارس میں بھیجتے ہیں کہ وہ دین کی صحیح سمجھ حاصل کریں، اچھے اخلاق سیکھیں اور ایک باعمل مسلمان بن کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مدارس نے اسلامی علوم کے تحفظ اور اشاعت میں بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ معاشرے کی ضروریات اور چیلنجز بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بڑا اعلان
آج کے دور میں صرف دینی تعلیم ہی کافی نہیں سمجھی جاتی بلکہ عملی مہارتیں، پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور جدید علوم سے بنیادی واقفیت بھی ایک کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہو چکی ہیں۔ اسی لیے مدارس کے نظام پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ دینی تعلیم کے ساتھ طلبہ کو ایک باوقار، بااعتماد اور خودمختار مستقبل بھی فراہم کیا جا سکے۔

بعض علاقوں میں یہ روایت موجود ہے کہ مدارس کے طلبہ گھروں یا محلوں میں جا کر راشن، کھانے یا مالی معاونت کی صورت میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ اس عمل کے پس منظر میں مختلف مقاصد بیان کیے جاتے ہیں، مثلاً عاجزی، صبر، خدمتِ خلق اور لوگوں سے تعلق پیدا کرنا، لیکن اس کے بعض منفی اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔
کم عمر بچے ابھی اپنی شخصیت تشکیل دے رہے ہوتے ہیں، اور اگر وہ مسلسل دوسروں سے مدد لینے کے عمل سے گزریں تو بعض اوقات ان میں احساسِ کمتری، انحصار یا خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ہر بچے کو عزت، خودداری اور اعتماد کے ساتھ پروان چڑھنے کا حق حاصل ہے۔
آج کا دور مہارتوں اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ افراد کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ اگر ایک طالب علم دینی تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سیکھ لے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کا سہارا بن سکتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم، گرافک ڈیزائننگ، زبان دانی، الیکٹریکل ورک، موبائل ریپئرنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن فری لانسنگ، دستکاری، زرعی مہارتیں اور چھوٹے کاروبار کے بنیادی اصول ایسے شعبے ہیں جو طلبہ کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مالی خواندگی (Financial Literacy) بھی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر طلبہ کو بچپن ہی سے بچت، بجٹ سازی، کاروبار کے بنیادی اصول اور ذمہ دارانہ مالی منصوبہ بندی سکھائی جائے تو وہ مستقبل میں بہتر معاشی فیصلے کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بنیادی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی تعلیم انہیں جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں بعض مدارس نے اس ضرورت کو محسوس کیا ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق اقدامات بھی کیے ہیں۔ جب بھی میں ایسے مدارس کی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر دیکھتی ہوں تو امید پیدا ہوتی ہے کہ تبدیلی ممکن ہے۔
بعض اداروں میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم، کمپیوٹر تعلیم اور یہاں تک کہ او لیول اور اے لیول جیسے پروگراموں کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں آگے بڑھ سکیں۔
یقیناً ہر مدرسے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مکمل جدید تعلیمی نظام یا او لیول اور اے لیول کے پروگرام شروع کرے، کیونکہ اس کے لیے وسائل، تربیت یافتہ اساتذہ اور مناسب انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس سطح تک جانا ممکن نہ ہو تو کم از کم بنیادی مہارتوں کی تعلیم تو فراہم کی جا سکتی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کمپیوٹر کلاسز، زبانوں کی تربیت، فنی کورسز، کاروباری مہارتوں کی ابتدائی تعلیم اور کیریئر کونسلنگ جیسے اقدامات بھی طلبہ کے مستقبل پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ اخلاقی تربیت اور خودداری کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ اسلام محنت، خود کفالت اور عزتِ نفس کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کی کمائی کو بہترین رزق قرار دیا، جبکہ اسلامی تاریخ میں بھی ایسے بے شمار علماء اور محدثین گزرے ہیں جو علم کے ساتھ مختلف پیشوں سے وابستہ رہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علم اور خود کفالت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
اگر ایک طالب علم قرآن و حدیث کا عالم ہونے کے ساتھ کسی ہنر میں بھی مہارت رکھتا ہو تو وہ معاشرے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کر کے دین اور معاشرے دونوں کی بہتر خدمت کر سکتا ہے۔
جدید مہارتیں طلبہ کی شخصیت کو نکھارتی ہیں، ان میں خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتی ہیں اور انہیں عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بناتی ہیں۔ اسی لیے مدارس کی اصلاح کا مقصد دینی تعلیم کی اہمیت کم کرنا نہیں بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ جب دین، اخلاق، علم اور ہنر ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو ایک متوازن اور کامیاب شخصیت پروان چڑھتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، علماء اور مدرسہ منتظمین مل کر ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دیں جہاں طلبہ دینی تعلیم کے ساتھ بنیادی مہارتیں بھی حاصل کر سکیں۔ اس طرح وہ مستقبل میں معاشی مشکلات کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے اور اپنی دینی و دنیاوی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں نبھا سکیں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دینی تعلیم ہماری شناخت اور روحانی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، لیکن ہنرمندی اور عملی مہارتیں بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر مدارس میں اس توازن کو فروغ دیا جائے تو ایک ایسی نسل تیار ہو سکتی ہے جو دین سے وابستہ، معاشی طور پر خود کفیل اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
