24سالہ سباحت کھڑکی کے پاس بیٹھی خاموشی سے باہر دیکھ رہی ہیں۔ ان کے خیالات کہیں بہت دور ماضی میں الجھے ہوئے ہیں۔

 

آٹھویں جماعت کی وہ کلاس، جہاں وہ ہمیشہ دوسری پوزیشن حاصل کرتی تھیں۔ اساتذہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر وہ اسی طرح محنت کرتی رہیں تو ایک دن ضرور ڈاکٹر بنیں گی۔ لیکن وقت نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے ان کے خوابوں کا رخ بدل دیا۔

 

آج وہ ایک گھر کی ذمہ دار ہیں، تین بیٹیوں کی ماں ہیں، اور ایسی زندگی کی مسافر ہیں جس میں خواب پیچھے رہ گئے اور ذمہ داریاں آگے بڑھ گئیں۔سباحت کی خاموشی میں چھپا ہر لمحہ ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے: کیا خواب واقعی وقت سے پہلے ختم ہو جاتے ہیں، یا صرف اپنا راستہ بدل لیتے ہیں؟

 

دنیا بھر میں کم عمری کی شادی آج بھی ایک اہم سماجی مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق دنیا میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک لڑکی 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کر دی جاتی ہے، جبکہ دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد خواتین ایسی ہیں جن کی شادی بچپن میں ہوئی۔

 

یہ بھی پڑھیے: فٹبالر کے اغوا پر وزیرستان میں تشویش، عوام نے حکومت سے جواب مانگ لیا

 

 اعداد و شمار کے مطابق کم عمری کی شادی کی سب سے زیادہ شرح نائیجیریا میں پائی جاتی ہے، جہاں تقریباً 70 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔

 

پاکستان میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 18 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمری کی شادی کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم، صحت، معاشی مواقع، ذہنی نشوونما اور سماجی ترقی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ مسئلہ تعلیم کے تسلسل میں رکاوٹ بنتا ہے، نوعمر حمل کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے اور بچوں کے مستقبل کے مواقع محدود کر دیتا ہے۔

 

ان اعداد و شمار کے پیچھے ایسی بے شمار کہانیاں موجود ہیں جن میں بچپن کے خواب وقت سے پہلے آنے والی ذمہ داریوں کے باعث بدل جاتے ہیں۔

 

سوات سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ سباحت بھی انہی افراد میں شامل ہیں جن کی شادی کم عمری میں ہوئی۔سباحت کے مطابق ان کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں اور تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق رکھتی تھیں۔

 

 

سباحت کہتی ہیں، “مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میں آٹھویں جماعت میں تھی اور اپنی کلاس میں دوسری پوزیشن حاصل کرتی تھی۔ میرا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ شادی کے وقت میرے والدین نے شرط رکھی تھی کہ میری تعلیم مکمل کروائی جائے گی۔ میرے سسرال والوں نے بھی میرا ساتھ دیا اور مجھے میٹرک تک پڑھایا۔”

 

وہ بتاتی ہیں کہ شادی کے بعد انہوں نے تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کی، لیکن بچوں کی ذمہ داریوں نے ان کے تعلیمی سفر کو روک دیا۔ ان کے بقول، “میرے سسرال والے تعلیم کے معاملے میں کافی تعاون کرتے تھے، لیکن میرے بچے میرے بغیر بہت روتے تھے اور اکثر بیمار رہتے تھے، اسی وجہ سے میں نے میٹرک کے بعد تعلیم چھوڑ دی۔”

 

سباحت کے مطابق کم عمری میں شادی کے بعد سب سے بڑا چیلنج نئی ذمہ داریوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، “شادی کے بعد انسان ایک نئے گھر میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس ماحول کو سمجھنے اور اپنانے میں کافی وقت لگتا ہے۔ بچپن ختم ہو جاتا ہے اور ذمہ داریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ میری شادی کو نو سال ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی بعض حالات میں سمجھ نہیں آتا کہ کیا فیصلہ کروں۔”

 

وہ مزید کہتی ہیں، “میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ آج جب اپنی ان دوستوں کو دیکھتی ہوں جو اب بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں یا اپنے خواب پورے کر رہی ہیں تو دل میں یہ احساس ضرور آتا ہے کہ شاید میں بھی اپنی تعلیم مکمل کر کے اپنے خواب کو حقیقت بنا سکتی تھی۔”

 

کم عمری کی شادی کے اثرات صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتے بلکہ طبی ماہرین کے مطابق اس کے صحت سے متعلق مختلف پہلو بھی موجود ہیں۔

 

کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر شاہین کے مطابق کم عمری میں شادی اور حمل بچیوں کی جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں کیونکہ اس عمر میں جسم مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتا۔ وہ کہتی ہیں، “کم عمر لڑکیوں میں خون کی کمی، غذائی قلت، کمزور ہڈیاں اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔”

 

ڈاکٹر شاہین کے مطابق نوعمر لڑکیاں حمل اور زچگی کے دوران نسبتاً زیادہ طبی خطرات کا سامنا کرتی ہیں کیونکہ ان کا تولیدی نظام اور جسمانی نشوونما ابھی مکمل نہیں ہوتی۔ ان کے بقول، “کم عمری میں حمل کی صورت میں قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچوں کی  پیدائش اور زچگی کے دوران مختلف پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔”

 

وہ مزید کہتی ہیں کہ عالمی طبی ادارے بھی کم عمری کی شادی اور نوعمری میں حمل کے حوالے سے آگاہی پر زور دیتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 15 سے 19 سال کی عمر کی لڑکیوں میں حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیاں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

 

جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ماہرین اس مسئلے کے ذہنی اور جذباتی پہلوؤں کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔

 

سوات سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات سارہ خان کے مطابق کم عمری کی شادی بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، “اس عمر میں بچے اپنی شخصیت، سوچ اور جذباتی نشوونما کے اہم مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ 

 

 

کم عمری میں شادی کی صورت میں انہیں ذہنی دباؤ، جذباتی الجھن اور ذمہ داریوں کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”وہ مزید کہتی ہیں، “تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم عمری میں شادی کرنے والے بچوں اور نوعمروں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔”

 

ماہرینِ اسلامیات کے مطابق اسلام میں نکاح کا مقصد ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم کرنا ہے جو سکون، محبت، تحفظ اور ذمہ داری پر مبنی ہو۔

 

اس حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے اسلامیات کے محقق ڈاکٹر ضیاء الدین کے مطابق اسلام میں نکاح کے بنیادی مقاصد میں باہمی سکون، رحمت اور مضبوط خاندان کی تشکیل شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “اسلامی تعلیمات کی رو سے نکاح محض ایک خاندانی یا سماجی انتظام نہیں بلکہ دو افراد کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے، اس لیے فریقین کی رضامندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔”

 

ڈاکٹر ضیاء الدین کے مطابق قرآنِ کریم میں بلوغت کے ساتھ ساتھ "رشد" یعنی ذہنی و عملی پختگی کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے۔ ان کے بقول صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ فرد ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں، حقوق اور فرائض کو سمجھنے اور نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ 

 

وہ کہتے ہیں، “اگر کوئی بچہ یا بچی عمر، ذہنی پختگی یا جسمانی استعداد کے اعتبار سے ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نبھانے کے قابل نہ ہو تو نکاح کے بنیادی مقاصد، جن میں سکون، محبت، باہمی تعاون اور خاندانی استحکام شامل ہیں، مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتے۔”

 

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسلام میں رضامندی نکاح کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اور فقہی طور پر رضامندی اسی وقت مؤثر سمجھی جاتی ہے جب انسان میں فہم، شعور اور آزادانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ان کے بقول، “ایک کم عمر بچہ یا بچی نکاح کی نوعیت، اس کے نتائج اور ازدواجی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا، اسی لیے علماء کی ایک بڑی تعداد حقیقی اور باخبر رضامندی کو بہت اہم قرار دیتی ہے۔”

 

ڈاکٹر ضیاء الدین کے مطابق اسلامی قانون کا معروف اصول "لا ضرر ولا ضرار" یعنی "نہ خود نقصان اٹھایا جائے اور نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے" اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، “اگر کم عمری کی شادی سے جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، تعلیمی یا سماجی نقصان کا خدشہ موجود ہو تو شریعت کے اصول ایسے نقصان سے بچاؤ کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ اسلام انسانی جان، عقل، وقار اور مستقبل کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔”

 

وہ مزید کہتے ہیں، “اگر معتبر سائنسی اور طبی شواہد یہ ظاہر کریں کہ کم عمری کی شادی بچوں کی صحت، تعلیم یا ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے تو ان حقائق کو فقہی اجتہاد اور قانون سازی میں اہمیت دی جا سکتی ہے، کیونکہ شریعت کا بنیادی مقصد انسانوں کی بھلائی اور نقصان سے بچاؤ ہے۔”

 

 

ڈاکٹر ضیاء الدین کے مطابق چائلڈ میرج ایکٹ کو صرف اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے، کیونکہ اسلام میں نکاح کا حکم صرف بلوغت سے مشروط نہیں بلکہ ذہنی پختگی اور ازدواجی ذمہ داریوں کو نبھانے کی صلاحیت سے بھی وابستہ ہے۔

 

وہ مزید کہتے ہیں، “اسلام نے نکاح کے لیے کوئی عالمگیر عددی عمر مقرر نہیں کی، تاہم بلوغت، رشد، مصلحتِ عامہ اور ضرر سے بچاؤ جیسے اصولوں کو اہم قرار دیا ہے۔ اسی لیے بہت سے مسلم ممالک بچوں کے تحفظ، تعلیم کے تسلسل اور صحت کے بہتر مفاد کے لیے نکاح کی کم از کم عمر سے متعلق قوانین نافذ کر چکے ہیں۔”

 

ان کے مطابق کم عمری کی شادی کے مسئلے کو صرف قانونی یا سماجی نہیں بلکہ بچوں کے بہترین مفاد، انسانی وقار، تعلیم، رضامندی اور ذمہ دارانہ خاندانی نظام کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 

کم عمری کی شادی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو اس کی قانونی حیثیت بھی ہے کیونکہ پاکستان میں اس حوالے سے مختلف قوانین موجود ہیں۔

 

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ملک صدام حسین کے مطابق کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد بچوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور وقار کا تحفظ ہے۔ وہ کہتے ہیں، “کم عمری کی شادی کے نتیجے میں بعض اوقات بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، صحت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور مستقبل کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایسے قوانین بچوں کو مختلف سماجی اور معاشی مشکلات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”

 

ملک صدام حسین کے مطابق پاکستان میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے مختلف قوانین موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں فی الحال چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 نافذ العمل ہے، جس کے مطابق لڑکے کی کم از کم عمر 18 سال جبکہ لڑکی کی کم از کم عمر 16 سال مقرر ہے، جبکہ سندھ اور اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔

 

 

وہ کہتے ہیں، “قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں والدین، سرپرست، نکاح خواں، نکاح رجسٹرار یا شادی کا انتظام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے اور انہیں جرمانے یا قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔”

 

ملک صدام حسین کے مطابق کم عمری کی شادی سے متعلق قانون کا تعلق آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے بھی ہے۔ ان کے بقول، “آئینِ پاکستان زندگی، انسانی وقار، مساوات، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کو بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اسی تناظر میں کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قوانین کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔”

 

ان کے مطابق اس موضوع پر مختلف قانونی اور مذہبی آراء موجود ہیں، تاہم ایک بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ بچوں کی صحت، تعلیم، وقار اور مستقبل کے مفاد کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔