وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پشاور یونیورسٹی سمیت صوبے کی تمام سرکاری جامعات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 2017 سے 2024 تک کے تمام پنشن واجبات یکمشت ادا کر دیے گئے ہیں، جبکہ 2024 سے جون 2026 تک کے واجبات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے جامعات کا مالی خسارہ 9 ارب روپے سے کم کر کے 4.5 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے، جبکہ سرکاری جامعات کے لیے مالی معاونت بڑھا کر 12 ارب روپے کر دی گئی ہے۔

 

 

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے احساس اسکالرشپ پروگرام بند کیے جانے کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت اسے اپنے وسائل سے جاری رکھے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان: ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد کہاں تک پہنچ گئی؟ ڈبلیو ایچ او کے تازہ اعداد و شمار جاری

 

 طلبہ کے لیے انٹرسٹ فری لون اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے قرضوں کی فراہمی بھی جاری ہے، جبکہ صوبائی انٹرن شپ پالیسی مکمل ہو چکی ہے اور اس کا جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ طلبہ اور نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور ہر قومی تحریک میں انہوں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے برین ڈرین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزگار اور بہتر مواقع نہ ملنے کے باعث نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اصلاحات کے ذریعے بغیر نئے ٹیکس عائد کیے صوبائی ریونیو 68 ارب روپے سے بڑھا کر پہلے 92 ارب اور پھر 150 ارب روپے سے زائد تک پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے 129 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر تھا، لیکن حکومت نے 150 ارب روپے سے زائد وصول کیے۔

 

 

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 800 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، اس لیے آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے بقایا واجبات فوری ادا کیے جائیں اور خیبرپختونخوا میں گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آزاد میڈیا جمہوریت کے لیے ناگزیر ہے اور عوام تک حقائق کی رسائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر، بلوچستان اور دیگر علاقوں کے مسائل طاقت کے بجائے سیاسی اور آئینی طریقہ کار سے حل کیے جائیں، جبکہ ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست مزید سنگین نتائج  پیدا کر سکتی ہے۔

 

انہوں نے 26 نومبر کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو انصاف ملنا چاہیے۔

 

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور وفاق کی ترجیحات معیشت کی بہتری کے بجائے سیاسی انتقام پر مرکوز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس معیشت کو بہتر بنانے کے لیے پٹرول مہنگا کرنے کے علاوہ کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے قبل ملکی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد تھی، جو اب تقریباً 3 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق 75 سال میں قومی قرضہ 43 ہزار ارب روپے تھا، جو چند برسوں میں بڑھ کر 76 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مسلسل ریاستی دباؤ کے باوجود عمران خان کی مقبولیت برقرار ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام سے دور رہنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوتیں اور حکمرانوں کو عوام کے درمیان جانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “پانچ اگست کا سیمی فائنل کامیاب بنائیں گے، فائنل بھی عوام دیکھیں گے۔”